حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 210
حیات احمد ۲۱۰ کمشنر کو اندیشہ ہوا کہ کہیں لدھیانہ میں مولویوں کی وجہ سے فساد نہ ہو جاوے۔ان کو لدھیانہ سے رخصت کر دینے کا حکم دیا اور اس کام کے لئے ڈپٹی کمشنر نے ڈپٹی دلاور علی صاحب اور کریم بخش صاحب تھانہ دار کو مقرر کیا۔ان لوگوں نے مولوی محمد حسین صاحب کو ڈپٹی کمشنر کا حکم سنا کر لدھیانہ سے رخصت کر دیا۔اور پھر وہ حضرت صاحب کے پاس حاضر ہوئے اور سڑک پر کھڑے ہو کر اندر آنے کی اجازت چاہی حضرت صاحب نے ان کو فوراً مکان میں بلا لیا اور ہم لوگوں کو حضرت صاحب نے فرما دیا کہ آپ ذرا باہر چلے جائیں۔چنانچہ ڈپٹی صاحب وغیرہ نے حضرت صاحب کے ساتھ کوئی آدھ گھنٹہ ملاقات کی اور پھر واپس چلے گئے۔ہم نے اندر جا کر حضرت صاحب سے دریافت کیا کہ یہ لوگ کیوں آئے تھے؟ جس پر حضرت صاحب نے فرمایا کہ وہ ڈپٹی کمشنر کا ایک پیغام لائے تھے کہ لدھیانہ میں فساد کا اندیشہ ہے بہتر ہے کہ آپ کچھ عرصہ کے لئے یہاں سے تشریف لے جائیں۔حضرت صاحب نے جواب میں فرمایا کہ اب یہاں ہمارا کوئی کام نہیں ہے اور ہم جانے کو تیار ہیں لیکن سردست ہم سفر نہیں کر سکتے کیونکہ بچوں کی طبیعت اچھی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ خیر کوئی بات نہیں ہم ڈپٹی کمشنر سے کہہ دیں گے اور ہمیں آپ کی ملاقات کا بہت شوق تھا سوشکر ہے کہ اس بہانہ سے زیارت ہو گئی۔اس کے بعد حضرت صاحب اندرون خانہ تشریف لے گئے اور ایک چٹھی ڈپٹی کمشنر کے نام لکھ کر لائے جس میں اپنے خاندانی حالات اور اپنی تعلیم وغیرہ کا ذکر فرمایا اور بعض خاندانی چٹھیات کی نقل بھی ساتھ لگا دی۔اس چٹھی کا غلام قادر صاحب فصیح نے انگریزی میں ترجمہ کیا اور پھر اُسے ڈپٹی کمشنر صاحب کے نام ارسال کر دیا گیا۔وہاں سے جواب آیا کہ آپ کے لئے کوئی ایسا حکم نہیں ہے۔آپ بے شک لدھیانہ میں ٹھہر سکتے ہیں جس پر مولوی محمد حسین صاحب نے لاہور جا کر بڑا شور برپا کیا کہ مجھے تو نکال دیا گیا ہے اور مرزا صاحب جلد سوم