حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 209 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 209

حیات احمد ۲۰۹ جلد سوم چار نکلیں چار اخبار میں اور نیز رسالہ ازالہ اوہام میں چھاپ دی جائیں گی۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى الراق خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور۔یکم رجب ۱۳۰۸ھ مطابق ۱۱ار فروری ۱۸۹۱ء مکتوبات احمد جلد ا صفحه ۴۲۴ تا ۴۲۸ مطبوعہ ۲۰۰۸ء - بحوالہ الفضل ۹ جولائی ۱۹۴۳ء صفحہ ۳ تا ۵ ) ایک غلطی کی اصطلاح مکرم ڈاکٹر بشارت احمد صاحب نے مجد داعظم کی پہلی جلد کے ص ۲۶۸ پر لکھا ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب کے لودھانہ سے اخراج کے سلسلہ میں حضرت اقدس بھی امرتسر چلے گئے تھے جہاں تک میری تحقیقات مدد دیتی ہے حضرت اقدس نے لودھانہ کو چھوڑ نہیں تھا جیسا کہ اُس خط سے بھی معلوم ہوتا ہے جو اوپر میں ڈپٹی کمشنر لو دھانہ کا درج کر آیا ہوں۔جو حضرت کے مکتوب مورخہ ۵/ اگست کا جواب ہے۔گویا ۵/ اگست تک تو حضرت اقدس لودھانہ میں ہی مقیم تھے۔۳۱ جولائی ۱۸۹۱ء کو تو مباحثہ ہی ختم ہوا تھا۔اس امر کی تائید مزید اس بیان سے بھی ہوتی ہے۔جو حضرت میر عنایت علی صاحب نے دیا ہے اور جو سیرت المہدی جلد دوم کے ص ۱۴۵ روایت نمبر ۴۵۸ میں چھپا ہے۔میر عنایت علی صاحب لدھیانوی نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت اقدس معہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم اور غلام قادر صاحب فصیح لدھیانہ محلہ اقبال گنج میں تشریف رکھتے تھے۔دعویٰ مسیحیت ہوچکا تھا اور مخالفت کا زور تھا اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی حضور کے مقابلہ میں آ کر شکست کھا چکا تھا۔غرض لدھیانہ میں ایک شورش ہو رہی تھی اور محرم بھی غالباً قریب تھا۔اس پر لدھیانہ کے ڈپٹی