حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 211 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 211

حیات احمد ۲۱۱ جلد سوم کو اجازت دی گئی ہے۔مگر کسی حاکم کے پاس اس کی شنوائی نہیں ہوئی۔اس کے بعد دیر تک حضرت صاحب لدھیانہ میں رہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے حضرت خلیفہ ثانی سے سنا ہوا ہے کہ اس موقعہ پر حضرت صاحب احتیاطاً امرتسر چلے آئے تھے اور امرتسر میں آپ کو ڈپٹی کمشنر کی چٹھی ملی تھی جس پر آپ پھر لدھیانہ تشریف لے گئے۔وَاللَّهُ أَعْلَمُ۔ان دونوں روایتوں میں سے کون سی درست ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں ٹھیک ہوں۔یعنی حضرت صاحب ڈپٹی دلاور علی صاحب وغیرہ کی ملاقات کے بعد احتیاطاً امرتسر چلے آئے ہوں، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ڈپٹی دلاور علی صاحب وغیرہ کو ڈپٹی کمشنر کے حکم سے متعلق غلط فہمی پیدا ہو گئی تھی اور ڈپٹی کمشنر کا منشاء صرف مولوی محمد حسین صاحب کے رخصت کئے جانے کے متعلق تھا چنانچہ ڈپٹی کمشنر کے جواب سے جو دوسری جگہ نقل کیا جا چکا ہے۔پتہ لگتا ہے کہ اس نے کبھی بھی حضرت صاحب کے متعلق ایسے خیال کا اظہار نہیں کیا۔وَاللَّهُ أَعْلَمُ۔“ (سیرت المہدی جلد ا روایت نمبر ۴۶۱ صفحه ۴۳۷ تا ۴۳۹ مطبوعه ۲۰۰۸ء) توضیحی نوٹ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے (جیسا کہ ان کے نوٹ سے معلوم ہوتا ہے ) دونوں روایتوں کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا۔مگر حقیقت یہ ہے کہ حضرت میر عنایت علی صاحب کا بیان صحیح ہے اس وقت حضرت اقدس امرتسر نہیں آئے۔حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا بیان امرتسر آنا اور لدھیانہ جانا ) اپنے مفہوم اور واقعہ کے لحاظ سے صحیح ہے۔مگر یہ اس مباحثہ لودھانہ کے ضمن میں صحیح نہیں معلوم ہوتا حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی عمر اس وقت اڑھائی سال کے قریب تھی۔اس لئے آپ نے امرتسر سے لدھیانہ جانا تو خوب یاد رکھا۔اور یہ واقعہ اوائل جولائی ۱۸۹۱ء کا ہے جس کے متعلق مولوی محمد حسین صاحب نے اپنے رسالہ اشاعة السنه جلد ۴ نمبر۲ کے صفحہ ۵۴ پر ذکر کیا ہے۔