حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 199 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 199

حیات احمد ۱۹۹ جلد سوم ذبیح اسماعیل ہیں مگر سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ اسحاق کو ذبیح ٹھہراتے ہیں۔ایسا ہی قریب اجماع کے یہ عقیدہ بھی ہے جو کتب سابقہ تو ریت وغیرہ میں تحریف لفظی ہو گئی ہے۔مگر حضرت محمد اسماعیل رئیس المحد ثین اس اجماع کے مخالف ہیں۔اب ظاہر ہے کہ اگر ان تمام جزئیات میں بطریق مباہلہ فیصلہ کرنا جائز ہوتا تو خدا تعالیٰ ہرگز اس اُمت کو مہلت نہ دیتا کہ اب تک وہ دنیا میں قائم رہ سکتی ، ذرا سوچ کر دیکھنا چاہئے کہ چونکہ در حقیقت حالت اسلام کی خیرُ الْقُرُون سے ہی ایسی واقعہ ہوگئی ہے که حنفی مذہب، شافعی مذہب سے صدہا جزئیات میں اختلافات رکھتا ہے۔ایسا ہی شافعی مالکی سے، اور مالکی حنبلی سے سینکڑوں جزئی مسائل میں مختلف ہے۔اور محد ثین کو بھی کسی ایک مذہب سے بکلی مطابقت نہیں ہے اور پھر وہ بھی باہم جزئیات کثیرہ میں اختلاف رکھتے ہیں۔اور ہر اہلِ کشف کے اختلافات کا بھی ایک دفتر ہے۔یہاں تک کہ بعض نے نبوت تامہ کے سلسلہ کو منقطع نہیں سمجھا۔جاودانی عذاب کے قائل نہیں ہوئے۔اور ظاہر ہے کہ ان میں سے کوئی ایسا مذہب نہیں کہ جو جزئیات کے اختلاف میں غلطی اور خطا کے احتمال سے خالی ہو۔اب اگر فرض کریں کہ ان سب میں اختلافات جزئیہ کی وجہ سے مباہلہ واقع ہو اور خداوند تعالیٰ مُخطی پر عذاب نازل کرے تو بلاشبہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمام متفرق فرقے اسلام کے صفحہ زمین سے یک لخت نابود ہوں۔پس ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا ہرگز منشاء نہیں کہ اہل اسلام ان تمام اختلافات جزئیہ کی وجہ سے ہلاک کئے جائیں سوایسے مباہلات سے کچھ اسلام کو فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔اور اگر یہ عنداللہ جائز ہوتا تو اسلام کا کب سے خاتمہ ہو جاتا۔( مجموعہ اشتہارات جلد اصفحہ ۱۸۱۔مطبوعہ بار دوم ) اس کے جواب میں میاں عبدالحق صاحب اپنے دوسرے اشتہار میں اس عاجز کو لکھتے ہیں کہ اگر مباہلہ مسلمانوں سے بوجہ اختلافات جزئیہ جائز نہیں تو پھر تم نے مولوی محمد اسماعیل سے رسالہ فتح اسلام میں کیوں مباہلہ کی درخواست کی۔سو انہیں