حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 198 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 198

حیات احمد ۱۹۸ ربَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَيْرُ الْفَتِحِينَ * مباہلہ کے اشتہار کا جواب ناظرین کو معلوم ہوگا کہ میاں عبدالحق صاحب غزنوی کے پہلے اشتہار کے جواب میں جو مباہلہ کے لئے انہوں نے شائع کیا تھا۔اس عاجز نے یہ جواب لکھا تھا کہ مسلمانوں کے جزئی اختلافات کی وجہ سے با ہم مباہلہ کرنا عِندَ الشَّرع ہرگز جائز نہیں۔مذہب اسلام ایسے اختلافات سے بھرا پڑا ہے۔حضرت مسیح ابن مریم کا جسم خاکی کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھایا جانا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلّم کے جسمانی طور پر اٹھائے جانے کی نسبت جو معراج کی رات میں بیان کیا جاتا ہے، کچھ زیادہ عزت کے لائق نہیں اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جسمانی صعود کی نسبت مسیح کے جسمانی صعود کا کچھ زیادہ ثبوت پایا جاتا ہے۔اور ظاہر ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بر خلاف ایک اجماع کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کے جسمانی معراج کا بکلی انکار کر دیا ہے۔مگر کسی صحابی نے اُن سے مباہلہ کی درخواست نہیں کی ، ماسوا اس کے اور بہت سے اختلافات صحابہ میں واقع ہوئے۔یہاں تک کہ بعض نے بعض قرآن شریف کی سورتوں کو قرآن شریف میں داخل نہیں سمجھا اور پھر ہر ایک زمانہ میں جزئی اختلافات کا سلسلہ بڑھتا گیا۔اور اس سلسلہ کو کچھ تو ائمہ اربعہ اور محدثین اور مفسرین نے وسعت دی اور ہزار ہا جزئیات مختلفہ آگے رکھ دیئے اور کچھ اہل کشف نے ان اختلافات کو بڑھایا۔چنانچہ ارباب کشف میں سے سب سے قدم بڑھا ہوا حضرت ابن عربی قَدَّسَ سِرُّہ کا ہے۔اور بعض مکاشفات سید عبدالقادر جیلانی قَدَّسَ سِرُّہ بھی ایسے ہیں جو احادیث صحیحہ سے منافی و مغائر ہیں چنانچہ ابن تیمیہ کا قول ہے کہ احادیث صحیحہ کی رو سے اس بات پر اجماع ہو چکا ہے کہ الاعراف : ٩٠ جلد سوم