حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 180 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 180

حیات احمد ۱۸۰ جلد سوم۔سترہ کا قحط پڑ گیا تھا اور ایک دفعہ اس نے بتلایا تھا کہ موضع را مپور ریاست پٹیالہ تحصیل پائیلی کے قریب جہاں اب نہر چلتی ہے ہم نے وہاں نشان لگایا ہے کہ یہاں دریا چلے گا پھر ایک مدت کے وہاں اُسی نشان کی جگہ پر نہر جاری ہو گئی۔جو در حقیقت دریا ہی کی ایک شاخ ہے یہ پیشگوئی اُن کی سارے جمال پور میں مشہور ہے۔ایسا ہی ایک دفعہ انہوں نے سمت سترہ کے قحط سے پہلے کہا تھا کہ اب بیوپاریوں کو بہت فائدہ ہوگا۔چنانچہ تھوڑے دنوں کے بعد قحط پڑا اور بیوپاری لوگوں کو اس قحط میں بہت فائدہ ہوا۔ایسی ہی ان کی اور بھی کئی پیشگوئیاں تھیں جو پوری ہوتی رہیں۔اس بزرگ نے ایک دفعہ جس بات کو عرصہ میں سال کا گزرا ہوگا مجھ کو کہا کہ عیسی اب جوان ہو گیا ہے اور لدھیانہ میں آکر قرآن کی غلطیاں نکالے گا۔اور قرآن کی رو سے فیصلہ کرے گا اور کہا مولوی اس سے انکار کریں گے۔پھر کہا کہ مولوی انکار کر جائیں گے۔تب میں نے تعجب کی راہ سے پوچھا کہ کیا قرآن میں بھی غلطیاں ہیں قرآن تو اللہ کا کلام ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ تفسیروں پر تفسیریں ہو گئیں اور شاعری زبان پھیل گئی (یعنی مبالغہ پر مبالغہ کر کے حقیقوں کو چھپایا گیا جیسے شاعر مبالغات پر زور دے کر اصل حقیقت کو چھپا دیتا ہے ) پھر کہا کہ جب وہ عیسی آئے گا تو فیصلہ قرآن سے کرے گا پھر اس مجذوب نے بات کو دہرا کر یہ بھی کہا تھا کہ فیصلہ قرآن پر کرے گا اور مولوی انکار کر جائیں گے اور پھر یہ بھی کہا کہ انکار کریں گے اور جب وہ میسی لدھیانہ میں آئے گا تو بہت قحط پڑے گا۔پھر میں نے پوچھا کہ عیسی اب کہاں ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ بیچ قادیان کے یعنی قادیان میں قادیان میں تب میں نے کہا کہ قادیان تو لدھیانہ سے تین کوس ہے وہاں عیسی کہاں ہے لدھیانہ کے قریب ایک گاؤں ہے جس کا نام قادیان ہے ) اس کا انہوں نے کچھ جواب نہ دیا اور مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ ضلع گورداسپور میں بھی کوئی گاؤں ہے جس کا نام قادیان ہے۔پھر میں نے اُن سے پوچھا کہ عیسی علیہ اسلام نبی اللہ آسمان پر اٹھائے گئے اور کعبہ پر اُتریں گے۔تب انہوں نے جواب دیا کہ عیسی ابن مریم نبی اللہ تو مر گیا ہے اب وہ نہیں آئے گا ہم نے اچھی طرح تحقیق کیا ہے کہ مر گیا ہے ہم بادشاہ ہیں جھوٹ نہیں بولیں گے۔اور کہا کہ جو