حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 179 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 179

حیات احمد 129 جلد سوم ہیں کہ درحقیقت یہ راست گو اور نیک بخت اور صالح آدمی ہے یہاں تک کہ مولوی عبدالقادر مدرس جمال پور ضلع لدھیانہ نے جو ایک صالح آدمی ہے اس پیر سفید ریش کی بہت تعریف کی در حقیقت یه شخص متقی اور متبع سنت اور راست گو ہے۔اور نہ صرف انہوں نے آپ ہی تعریف کی بلکہ اپنی ایک تحریر میں یہ بھی لکھا کہ مولوی محمد حسن صاحب رئیس لدھیانہ کہ جو گروہ موحدین میں سے ایک منتخب اور شریف اور غایت درجہ کے خلیق اور بُردبار اور ثقہ ہیں۔جن کے والد صاحب مرحوم کا جو ایک با کمال بزرگ تھے یہ سفید ریش بڑھا قدیمی دوست اور ہم قوم اور پرانے زمانہ سے تعارف رکھنے والا اور اُن کی پر فیض صحبتوں کے رنگ سے رنگین ہے۔بیان فرماتے تھے کہ حقیقت میں میاں کریم بخش یعنی یہ بزرگ سفید ریش بہت اچھا آدمی ہے اور اعتبار کے لائق ہے۔مجھ کو اس پر کسی طور پر سے شک نہیں ہے۔اب وہ کشف جس طور سے میاں کریم بخش صاحب نے اپنے تحریری اظہار میں بیان کیا ہے۔اُس اظہار کی نقل مع اُن تمام شہادتوں کے جو اس کا غذ پر ثبت ہیں ذیل میں ہم لکھتے ہیں اور وہ یہ ہے۔میرا نام کریم بخش والد کا نام غلام رسول قوم اعوان ساکن جمال پور تحصیل لدھیانہ پیشہ زمینداری عمر تخمیناً چونسٹھ مذہب موحد اہل حدیث حلفاً بیان کرتا ہوں کہ عرصہ تخمینا تھیں یا اکتیس سال کا گزرا ہو گا یعنی سمکا- 19 میں جبکہ سن سترہ کا ایک قحط پڑا تھا ایک بزرگ گلاب شاہ نام جس نے مجھے تو حید کا راہ سکھلایا اور جو باعث اپنے کمالات فقر کے بہت مشہور ہو گیا تھا اور اصل باشندہ ضلع لاہور کا تھا ہمارے گاؤں جمال پور میں آرہا تھا اور ابتدا میں ایک فقیر سالک اور زاہد اور عابد تھا اور اسرار توحید اُس کے منہ سے نکلتے تھے لیکن آخر اس پر ایک ربودگی اور بے ہوشی طاری ہو کر مجذوب ہو گیا اور بعض اوقات قبل از ظہور بعض غیب کی باتیں اُس کی زبان پر جاری ہوتیں اور جس طرح وہ بیان کرتا آخر اسی طرح پوری ہو جاتیں چنانچہ ایک دفعہ اس نے سمت سترہ کے قحط سے پہلے ایک قحط شدید کے آنے کی پیشگوئی کی تھی۔اور پیش از وقوع مجھے بھی خبر دی تھی سو تھوڑے دنوں کے بعد