حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 175 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 175

حیات احمد ۱۷۵ کے مضمون پڑھتے وقت چپ رہ کر سن نہیں سکتے اور مضمون سننے کے بعد بھی ان کی زبان ان سے رک نہیں سکی اور جوش میں ان تمام شرطوں کو ایسے بھول گئے کہ گویا ان سب باتوں کے کرنے کے لئے ان کو بالکل آزادی تھی اس بے حواسی کے بے طرح جوش کا یہی سبب تھا کہ مولوی صاحب اپنا ہے صفحہ کا مضمون سنا کر یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ یہ لا جواب مضمون ہے بلکہ مغروری کی راہ سے بعض جگہ اپنی فتح کے خط بھی بھیج دیئے تھے۔اب جو عصائے موسیٰ کی طرح اس عاجز کے مضمون نے مولوی صاحب کی تمام ساحرانہ کارروائی کو باطل کر دیا تو یکدفعہ ان کے دل پر وہ زلزلہ آیا جس کی کیفیت خدا تعالیٰ کے بعد وہی جانتے ہوں گے۔سو یہ تمام حرکات جوان سے سرزد ہوئیں ایک قسم کی بیہوشی کی وجہ سے تھیں جو اس وقت ان پر طاری ہو گئی تھی بہر حال وہ شرائط شکنی کے بعد اس بات کے مستحق نہ رہے کہ انہیں مضمون ۱۳۱ جولائی ۱۸۹۱ء کی نقل دی جاتی۔اور یادر ہے کہ ان کے ۷۶ صفحے کے مضمون میں بجز بے تعلق ہاتوں اور بد زبانی اور افترا کے اور خاک بھی نہیں تھا۔اور بد زبانی سے ، یہاں تک انہوں نے کام لیا کہ ناحق بے وجہ امام بزرگ حضرت فخر الائمہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی شان بلند میں سخت تحقیر کے الفاظ استعمال کئے۔بالآخر میں ایک دفعہ پھر حجت پوری کرنے کے لئے بآواز بلند مولوی صاحب کو دعوت کرتا ہوں کہ وہ اصل مسئلہ کے متعلق ضرور بصد ضرور میرے ساتھ بحث کریں۔مگر یہ بحث لاہور جیسے صدر مقام میں منعقد کی جائے۔جہاں اعلیٰ درجہ کے فہیم، ذکی، تعلیم یافتہ اور متین اشخاص اور رؤساء شامل ہو سکتے ہیں۔اور مولوی صاحب کو غیر متعلق گفتگو چھیڑ نے اور غلط بحث کرنے اور انہیں بد زبانی اور خلاف تہذیب کلمات منہ سے نکالنے اور کسی شرط مقررہ کو توڑنے سے روکنے کی بھی طاقت رکھتے ہیں۔نیز ان میں سے بعض نے یہ درخواست بھی کی ہے کہ امن وغیرہ کا انتظام بھی ہمارے سپرد ہوگا۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى جلد سوم