حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 174
حیات احمد ۱۷۴ جلد سوم نے کوئی حوالہ غلط دیا ہے۔افسوس مولوی صاحب آغاز مضمون سے ہی تر دیدی نوٹوں کی تحریر میں مصروف ہو گئے اور مضمون کی خوبیوں پر تدبر سے غور کرنے کا انہیں بے قرار اور پُر جوش طبیعت نے ذرا بھی موقعہ نہ دیا۔ور نہ بے سوچے سمجھے انہیں طلاقوں کی ضرورت نہ پڑتی۔اور یوں عوام میں اپنی مستورہ بیویوں کی ہتک حرمت کے الفاظ منہ سے نکال کر سکی نہ اٹھاتے۔اب پبلک کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ اب اس کارروائی کی نسبت جو کچھ وہ مشتہر کریں گے محض اپنی بدنامی اور فضیحت کا داغ دھونے کے لئے ایک واویلا اور نوحہ ہو گا۔یہ اُن کی ساری بیہودہ باتیں ہیں تا عوام پر جو ان کی حقیقت کھل گئی ہے اس پر کسی طرح پردہ پڑ جائے وہ اصل مطلب (حیات و مَمات مسیح) پر میرے ساتھ کیوں بحث نہیں کرتے؟ وہ یقینا ڈرتے ہیں کہ اگر اصل مسئلہ میں بحث شروع ہوگی تو بڑی رسوائی کے ساتھ انہیں مغلوب ہونا پڑے گا۔ہاں ناظرین پر واضح رہے کہ ہم نے اپنے آخری مضمون کی جو ا۳/ جولائی ۱۸۹۱ء کو بروز جمعہ پڑھا گیا تھا مولوی صاحب کو نقل نہیں دی کیونکہ مولوی صاحب بباعث ارتکاب جریمه عہد شکنی و ترک تہذیب اور توڑ دینے تمام شرطوں کے اپنے تمام حقوق کو اپنی ہی کرتوت کی وجہ سے کھو بیٹھے۔حاضرین جو قریباً تین سو کے موجود ہو گئے تھے جن میں بعض معزز ریکس شہر کے اور صاحبان ایڈیٹر اخبار پنجاب گزٹ سیالکوٹ اور نورافشاں لودیا نہ بھی تھے۔اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ مولوی صاحب بے صبر ہوکر برخلاف شرط قرار یافتہ اس عاجز مباحثہ سے پیشتر مولوی صاحب کے بعض خیر خواہوں خصوصاً حافظ محمد یوسف صاحب ضلع دار نہر نے یہ خواب دیکھا تھا کہ مولوی صاحب کی ٹانگ خشک ہوگئی اور مولوی صاحب حقہ پیتے تھے۔اور میاں عبدالحکیم خاں صاحب نے بروایت منشی عبدالغنی صاحب برادر منشی نجف علی صاحب ہمارے پاس بیان کیا تھا کہ خود مولوی صاحب نے اپنی ٹانگ کو خواب میں خشک ہوتے دیکھا ان خوابوں کی تعبیر یہی تھی کہ مولوی صاحب حق کی مخالفت کریں گے مگر خفت ، نا کامی اور زک اٹھا ئیں گے۔ب ضلع دار ضلع لاہور ہیں جو مرد صالح اور مولوی محمد حسین صاحب کے دوست ہیں۔