حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 176 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 176

حیات احمد ضروری نوٹ۔اب مولوی صاحب اپنے کارخانہ کی ترقی کے لئے بہتانوں پر آگئے ہیں۔منجملہ ان کے ایک بڑا بہتان یہ لگایا ہے کہ گویا ” میں صحیح بخاری اور مسلم کا منکر ہوں اس کے جواب میں بجز لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِيْن اور کیا کہا جا سکتا ہے ہر ایک مسلمان پر واضح رہے کہ میں بسر و چشم صحیحین کو مانتا ہوں۔ہاں کتاب اللہ قرآنِ کریم کو نمبر اول اور ان سے مقدم سمجھتا ہوں۔مگر بخاری کو اَصَحُ الْكُتُبِ بَعْدَ كِتَابِ اللهِ یقین رکھتا ہوں اور واجب العمل مانتا ہوں۔ہاں صرف اتنا کہتا ہوں کہ قرآن کریم کے اخبار اور نقص اور واقعات ماضیہ پر نسخ و زیادت ہرگز جائز نہیں۔مباحثہ کا انتقام الـ grins خاکسار میرزا غلام احمد قادیانی یکم اگست ۱۸۹۱ء جلد سوم ( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحه ۱۹۴ تا ۱۹۷ بار دوم ) ۱۳۱ جولائی ۱۸۹۱ء کو مباحثہ کا آخری دن تھا اور اس روز حضرت مسیح موعود کو اپنا آخری پرچہ سنانا تھا اور آپ نے جب مضمون شروع کیا تو مولوی محمد حسین صاحب نے نہایت جوش اور غصہ سے خلاف شرائط دخل دینا شروع کیا، شرائط میں دوسرے فریق کے جواب کے وقت کے فریق مخالف کو کچھ کہنے کی اجازت نہ تھی۔مگر مولوی محمد حسین صاحب کا جوش بڑھتا گیا۔بالآخر حاشیہ: اے ناظرین ! ذرا توجہ کرو۔میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر مولوی محمد حسین صاحب چالیس دن تک میرے مقابل پر خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کر کے آسمانی نشان یا اسرار غیب دکھلا سکیں جو میں دکھلا سکوں تو میں قبول کرتا ہوں کہ جس ہتھیار سے چاہیں مجھے ذبح کر دیں اور جو تاوان چاہیں میرے پر لگائیں۔دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُسے قبول نہ کیا۔لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔“