حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 168
حیات احمد ۱۶۸ لدھیانہ والے مباحثہ پر چند ریمارکس جلد سوم ہمارے مقصد میں داخل نہیں کہ ہم اس وقت یہاں مباحثہ کے جزوی وکلی حالات اور دیگر متعلقات سے تعرض کریں۔اس مضمون پر ہمارے معزز و مکرم دوست منشی غلام قادر صاحب فصیح اپنے گرامی پرچہ پنجاب گزٹ کے ضمیمہ مورخہ ۱۲ار اگست میں پوری روشنی ڈال چکے ہیں۔بحث کی اصلی غرض اور علت غائی ، اور آخر کار اس کے نتیجہ واقع شدہ سے تعلق ہے۔الحاصل مولوی ابوسعید صاحب لو د یا نہ لائے گئے۔اسلامی جماعتوں میں ایک دفعہ پھر حرکت پیدا ہوئی اور ہر ایک نے اپنے اپنے مشتاق خیال کے بلند ٹیلے پر چڑھ کر اور تصور کی دور بین لگا کر اس مقدس جنگ کے نتیجے کا انتظار کرنا شروع کیا۔آخر مباحثہ شروع ہوا۔۱۲ روز تک اس کا رروائی نے طول پکڑا۔مگر افسوس نتیجہ پر لودیا نہ کے لوگ بھی پورے معنوں میں اپنے بھائیوں اہل لاہور کی قسمت کے شریک رہے۔مولوی صاحب نے اب بھی وہی اصول موضوعہ پیش کر دیئے۔حالانکہ نہایت ضروری تھا کہ وہ بہت جلد اس فتنہ کا دروازہ بند کرتے۔جو اُن کے زعم کے موافق اسلام و مسلمانان کے حق میں شدید مضر ثابت ہو رہا تھا۔لیکن اگر راستی و حقانیت پر اپنی ، انہیں پوری بصیرت اور وثوق کامل تھا تو وہی سب سے پہلے ہر طرف سے ہٹ کر اور لایعنی امور سے منہ موڑ کر حضرت مرزا صاحب کے اصل بنائے دعوی یعنی وفات مسیح کی نسبت گفتگو شروع کرتے۔یہ تو کمزور اور بے سامان کا کام ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچاؤ کے لئے ادھر اُدھر پنجے مارتا اور ہاتھ اڑاتا ہے۔اُن پر واجب تھا کہ فوراً قرآنِ کریم سے کوئی ایسی آیت پیش کرتے جو حضرت مسیح کی حیات پر دلیل ہوتی یا ان آیات کے معانی پر جرح کرتے اور ان دلائل کو قرآن سے یا حدیث صریح صحیح سے توڑ کر دکھلاتے جو حضرت مرزا صاحب نے مسیح کی موت پر لکھی ہیں مگر اس دلی شعور نے کہ وہ واقعی بے سلاح ہیں، انہیں اس طرف مائل کیا کہ وہ جوں توں کر کے اپنے منہ کے آگے سے اُس موت کے پیالہ کو ٹال دیں۔وہ