حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 167 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 167

حیات احمد ۱۶۷ جلد سوم مولوی محمد حسن صاحب نے کہا کہ تم کیوں آگئے میں نے کہا ہم کیسے نہ آویں مباحثہ تو گویا ہمارے ساتھ ہے۔اور کاتب مباحثہ میں ہوں حضرت اقدس علیہ السلام نے مضمون سنانے سے پہلے فرمایا که مولوی صاحب یہ مباحثہ طول پکڑ گیا ہے اس کی اب کوئی ضرورت نہیں ہے۔اصل مطلب وفات و حیات مسیح علیہ السلام میں بحث ہونی مناسب ہے۔مگر مولوی صاحب کب ماننے والے تھے۔ان کے ہاتھ میں حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات میں کیا دھرا تھا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے پر چہ سنانا شروع کیا تو مولوی صاحب کا چہرہ سیاہ پڑ گیا اور ایسی گھبراہٹ ہوئی اور اس قدر ہوش و حواس باختہ ہوئے کہ نوٹ کرنے کے لئے جب قلم اٹھایا تو زمین پر قلم مارنے لگے دوات جوں کی توں رکھی رہ گئی اور قلم چند بار زمین پر مارنے سے ٹوٹ گیا اور جب یہ حدیث آئی کہ بخاری میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو حدیث میری معارض قرآن ہو وہ چھوڑ دی جائے۔اور قرآن کو لے لیا جائے اس پر مولوی محمد حسین صاحب کو نہایت غصہ آیا اور کہا کہ یہ حدیث بخاری میں نہیں ہے۔اور جو یہ حدیث بخاری میں ہو تو میری دونوں بیویوں پر طلاق ہے۔اس طلاق کے لفظ سے تمام لوگ ہنس پڑے اور مولوی صاحب کو مارے شرم کے کچھ نہ بن پڑا اور بعد میں کئی روز تک لوگوں سے مولوی صاحب کہتے رہے کہ نہیں نہیں میری دونوں بیویوں پر طلاق نہیں ہوا۔اور نہ میں نے طلاق کا نام لیا ہے۔اب جو دس ہیں سو دو سو کو خبر تھی تو مولوی صاحب نے ہزاروں کو خبر دے دی۔مولوی صاحب پر غضب اور مغلوب الغضب تو تھے ہی غصے میں خدا جانے کیا کیا زبان سے نکلا۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کا بیان حضرت صاحبزادہ سراج الحق صاحب کے بیان کے بعد میں ضروری سمجھتا ہوں کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ کا بیان بھی درج کر دوں۔جو آپ نے بطور ریمارک الحق میں شائع کیا ہے۔