حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 169 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 169

حیات احمد ۱۶۹ جلد سوم نہ ٹلا اور آخر مولوی صاحب پر ذلت کی موت وارد ہوئی۔فَاعْتَبِرُوا يَأُولِي الْأَبْصَارِ اب امید ہے کہ وہ حسب قاعدہ کلیہ اس دنیا میں پھر نہ اٹھیں گے۔چنانچہ لا ہوری برگزیدہ جماعت نے بھی انہیں مردہ یقین کر کے اس درخواست میں بظاہر زندہ مولویوں کو مخاطب کیا ہے۔اور ان پر فاتحہ پڑھ دی ہے۔ہم بھی انہیں روح میں مردہ سمجھتے ہیں۔اور ان کی موت پر تأسف کرتے ہیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اسلامی پیلک حیران ہے کہ کیوں مولوی ابوسعید صاحب نے اس بحث اور گزشتہ بحث میں قرآن کریم کی طرف آنے سے گریز کرنا پسند کیا اور کیوں وہ صاف صاف قرآن کریم اور فرقان مجید کی رو سے وفات وحیات مسیح کے مسئلہ کی نسبت گفتگو کرنے کی جرأت نہ کرتے یا عمداً کرنا نہ چاہتے تھے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم اپنی نصوص قطعیہ ہینہ کا جرار و کرارلشکر اور ان گنت لشکر لے کر حضرت مرزا صاحب کی تائید پر آمادہ ہے۔دو سو آیت کے قریب حضرت مسیح کی وفات پر بالصراحت دلالت کر رہی ہے۔مولوی ابو سعید صاحب نے نہ چاہا (اگر وہ چاہتے تو جلد فیصلہ ہو جاتا ) کہ قرآن مجید کو اس نزاع میں جلد اور بلا واسطہ حکم اور فاصل بنا دیں اس لئے کہ وہ خوب سمجھتے تھے کہ سارا قرآن حضرت مرزا صاحب کے ساتھ ہے۔اور اس خواہ نہ خواہ معاندانہ کا روائی سے زک اٹھا ئیں گے لیکن پیش بندی یہ مشہور کرنا اور بات بات میں یہ کہنا شروع کر دیا کہ مرزا صاحب حدیث کو نہیں مانتے۔نعوذ باللہ۔ہم اس امر کا فیصلہ اہل تحقیق ناظرین پر چھوڑتے ہیں وہ دیکھ لیں گے اور مرزا صاحب کے جابجا اقراروں سے بخوبی سمجھ لیں گے کہ حدیث کی سچی اور واقعی عزت حضرت مرزا صاحب ہی نے کی ہے۔ان کا مدعا و منشا یہ ہے کہ حدیث کے ایسے معنے کئے جائیں جو کسی صورت میں کتاب اللہ الشریف کے مخالف نہ پڑیں بلکہ حدیث کی عزت قائم رکھنے کے لئے اگر اس میں کوئی ایسا پہلو ہو جو بظاہر نظر کتاب اللہ کی مخالفت کا احتمال رکھتا ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے اسے قرآن کے ساتھ تو فیق و تطبیق دینے کی سعی بلیغ کرتے ہیں اگر ناچار حملة الحشر : ٣