حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 162
حیات احمد ۱۶۲ جلد سوم اطلاع نہ دیں تب تک یہ عاجز کچھ نہیں کہہ سکتا۔اس طرح پر یہ خط و کتابت کا سلسلہ ۱۳/ جون ۱۸۹۱ء کو ختم ہو گیا۔لیکن حضرت اقدس یہ چاہتے تھے کہ کسی طرح پر وفات مسیح اور مسیح موعود کے مسئلہ پر گفتگو ہو جاوے۔اُس وقت بظاہر یہ تلخ پیالہ مولوی صاحب سے ٹل گیا۔مگر لوگ چاہتے تھے کہ کسی نہ کسی طرح مباحثہ ہو، اظہار حقیقت ہو جاوے۔یہ ان لوگوں کی خواہش تھی جو سلیم الفطرت تھے ایسے بھی لوگ تھے جو اس قسم کے مباحثات کو ایک مشغلہ سمجھتے تھے۔سفر امرتسر بہر حال جلد ہی حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ مولوی محمد حسین صاحب مباحثہ پر مجبور ہو گئے اور انہیں یہ تلخ پیالہ پینا پڑا۔اس کی ابتدا اس طرح پر ہوئی کہ جب لودھانہ میں مولوی محمد حسین صاحب سے ۱۳ جون ۱۸۹۱ء کو مراسلات کا سلسلہ ختم ہوا تو حضرت اقدس اوائل جولائی ۱۸۹۱ء میں بعض دوستوں اور امرتسر کے بعض رؤسا کی خواہش پر امرتسر تشریف لے گئے۔وہاں اہلحدیث کے دو فریق ہو چکے تھے ایک فریق مولوی احمد اللہ صاحب کا تھا۔اور دوسرا غز نویوں کا۔مولوی احمد اللہ صاحب سادہ مزاج اور برخلاف بعض علماء کے شرافت اور تہذیب سے بات کرتے تھے اور حضرت اقدس کی دعاوی کے متعلق وہ متشدد نہ تھے بلکہ اوّلاً خاموش تھے۔اس لئے غزنوی جرگہ ان کی سخت مخالفت کرتا تھا۔بالآخر انہوں نے مولوی احمد اللہ صاحب کو اُن کی مسجد سے نکال دیا جہاں وہ خطیب اور امام تھے۔امرتسر کی تیلی قوم کے افراد ان کے معتقد تھے انہوں نے اپنی مسجد میں انتظام کر لیا۔اس سفر میں حضرت نے مولوی احمد اللہ صاحب کو اپنے دعاوی کے متعلق ۷ جولائی ۱۸۹۱ء کو تحریری مباحثہ کی بشرط قیام امن دعوت دی۔مگر یہ مباحثہ نہ ہو سکا۔مولوی احمد اللہ صاحب نے آمادگی ظاہر نہ کی۔یہ مولوی احمد اللہ صاحب امرتسری مولوی ثناء اللہ صاحب کے استاد بھی تھے۔خاکسار عرفانی کو بھی ان سے متعدد مرتبہ ملاقات کی مسرت حاصل ہوئی۔وہ بدگو نہ تھے اور نہ