حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 163 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 163

حیات احمد ۱۶۳ جلد سوم حضرت کی دعاوی میں متشدد تھے اس لئے مولوی محمد حسین صاحب کے گروہ کے لوگ بعض وقت اپنی مجلسوں میں ان کے احمدی ہونے کا ذکر بھی کرتے مگر بظاہر انہوں نے تصدیق نہیں کی۔یہ سفر امرتسر نتیجہ کے لحاظ سے کامیاب رہا۔اس لئے کہ خود مولوی احمد اللہ صاحب کی جماعت کے بعض مخلص احباب کو سلسلہ کی طرف توجہ ہوئی اور بالآخر وہ سلسلہ بیعت میں داخل ہو گئے ان میں حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب، حضرت میاں نبی بخش صاحب، حضرت مولوی عنایت اللہ صاحب، میاں چراغ دین صاحب تیلی وغیرھم داخل تھے۔مباحثہ لدھیانہ حضرت اقدس امرتسر سے واپس لودھانہ آ گئے۔اور بالآخر ۳۰ / جولائی ۱۸۹۱ء کو حضرت اقدس کے مکان ہی پر مباحثہ کا آغاز ہوا اس مباحثہ کی تحریر میں احق سیالکوٹ میں شائع ہو گئی ہیں۔جو الحق لو دھیانہ کے نام سے مشہور ہے۔اس مباحثہ میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اور منشی غلام قادر صاحب فصیح کے علاوہ کپورتھلہ کی جماعت کے احباب اور ضلع لودھانہ کے احمدی شریک تھے۔اور حضرت صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت اقدس کے تحریری مضمون کی نقل ساتھ ساتھ کرتے تھے۔منشی غلام قادر صاحب فصیح نے ضمیمہ پنجاب گزٹ میں تفصیلی چشم دید حالات شائع کئے تھے افسوس ہے وہ فائل میری لائبریری سے انقلاب ۱۹۴۷ء میں سرقہ ہوا۔حضرت صاحب زادہ سراج الحق صاحب نے جو چشم دید حالات بیان کئے ہیں انہیں میں تذکرۃ المہدی سے لے کر درج کر دیتا ہوں۔یہ مباحثہ ۲۰ جولائی ۱۸۹۱ء کو شروع ہوا اور ۳۱ / جولائی ۱۸۹۱ء کوختم ہو گیا۔یہ ۱ طریق مباحثہ یہ تھا کہ سوال و جواب اسی مجلس میں لکھا جاتا تھا اور سنا دیا جاتا تھا۔اور ساتھ ساتھ اس کی نقل دستخط کر کے فریق ثانی کو دے دی جاتی تھی۔