حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 156
حیات احمد ۱۵۶ جلد سوم حکیم صاحب۔قرآنِ شریف میں جہاں ابن مریم آیا ہے وہاں تو وہی عیسی ابن مریم سمجھے جاتے تھے۔اور احادیث میں جو ابن مریم بولا گیا تھا اس کی تصریح صحابہ کی جانب سے میں نے نہیں دیکھی کہ آیا وہ اس کو مثیل ابن مریم سمجھتے تھے یا واقعی نبی اللہ بنی اسرائیلی مراد لیتے تھے۔خاکسار (۲۴) آٹھویں اصول میں آپ تسلیم کر چکے ہیں کہ احادیث اور قرآن کے اصلی معنی۔جواب نمبری ۲۴۔اس حد تک پہنچا تھا کہ حکیم صاحب مجلس سے رخصت کے خواستگار ہوئے۔اس وقت جناب مولوی محمد عبد اللہ صاحب پروفیسر عربی کالج لاہور نے فرمایا کہ ان اصول وسوالات و جوابات پر فریقین کے دستخط ثبت ہونے چاہئیں۔وَبَنَاءً عَلَيْهِ وہ اصول وسوالات و جوابات اس مجلس میں اوّل سے آخر تک لفظ بلفظ پڑھے گئے۔پھر حکیم صاحب نے اس کو اپنے ہاتھ میں لے کر ملاحظہ فرما کر تسلیم کیا۔اور پہلے ان پر اپنا دستخط ثبت کرنا چاہا مگر پھر فرمایا کہ یہ دوسرے کاغذ پر صاف ہو جائیں گے تو ان پر دستخط کروں گا اور یہ کہہ کر آپ مجلس سے کھڑے ہو گئے اور دوسری جگہ کھانا کھا کر اپنے آقا راجہ صاحب کے پاس چلے گئے۔اُن کے بعد ا کثر ارکان مجلس اپنے اپنے مکانات کو تشریف لے گئے صرف خاکسار اور جناب مولوی محمد عبد اللہ صاحب اور چند دیگر احباب تقریباً ایک گھنٹہ تک وہاں ٹھہرے۔اور ان اصول وسوالات و جوابات کی دو نقلیں کرا کے اصل سے ان کا مقابلہ کرتے رہے۔اس کے بعد ہم بھی وہاں سے مرخص ہو گئے۔اور ان دو نفلوں میں سے ایک نقل پر خاکسار نے اپنے دستخط ثبت کر کے حکیم صاحب کا دستخط ثبت کرانے کی غرض سے اس کو حافظ جی کے سپرد کیا اور یہ کہہ دیا کہ جس وقت حکیم صاحب واپس آئیں اور مباحثہ پورا کرنا چاہیں۔اس وقت آپ ہم لوگوں کو بھی طلب کریں۔“ مجھے اس پر کسی ریمارک کی ضرورت نہیں۔خود مولوی محمد حسین صاحب کے اس سلسلے کے بیان سے ظاہر ہے کہ چونکہ جموں میں آپ کا ایک ایسے ضروری کام کے لئے جانا ضروری ہے اور توقف سے احتمال نقصان ہے اور ایک شب کے لئے لودہا نہ جانا اور اپنے اہلِ بیت کو لانا ضروری