حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 157
حیات احمد ۱۵۷ جلد سوم ہے آپ لودہا نہ چلے گئے۔اس کے بعد کے واقعات کا ذکر اوپر آچکا ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب نے تار دیا اور ایک سلسلہ خط و کتابت کا شروع ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خطوط سے ان خطوط کا مضمون واضح ہے جو مولوی محمد حسین صاحب نے لکھے تھے۔مولوی محمد حسن صاحب مولوی محمد حسین کے لبادہ میں میں نے مولوی محمد حسن صاحب کے خطوط کے جوابات کو جو حضرت اقدس نے دیئے اوپر درج کر دیا ہے اور میں نے بتایا ہے کہ یہ خطوط در اصل مولوی محمد حسین ہی کے لکھے ہوئے تھے اشاعة السنہ سے اس کی شہادت مل گئی ہے اس لئے اس حصہ کو بھی درج کرتا ہوں مگر اس سے قبل اس گفتگو (جس کو بعد میں مناظرہ کہا گیا ) کے دوران میں حضرت حکیم الامت کا چلے جانا کوئی گریز نہ تھی بلکہ ایک نہایت ضروری کام تھا اس کے متعلق مولوی محمد حسین صاحب کے دوست اور شاہد عدل جناب شیخ خدا بخش صاحب حج عدالت خفیفہ لاہور کا بیان درج کر دینا ضروری ہے جو خود مولوی محمد حسین نے شائع کیا ہے۔جناب اخی مکرمی شیخ خدا بخش صاحب حج عدالت خفیفہ لاہور کی شہادت ۱۴ را پریل ۱۸۹۱ء کو مولوی محمد عبد اللہ صاحب ٹونکی اور فقیر، جمال الدین صاحب کے بعد اس مجلس میں گیا تھا، نہ اس خیال سے کہ میں مناظرہ میں شامل ہوں بلکہ مناظرہ کا مجھ کو علم بھی نہ تھا۔میں وہاں مولوی نورالدین صاحب کے ساتھ کسی جگہ جانے کے لئے کسی اور معاملہ دنیاوی کی خاطر گیا تھا کہ وہ وقت مولوی نورالدین صاحب نے میرے ساتھ کہیں جانے کے لئے مقرر کیا ہوا تھا۔بہر حال میں نے گفتگو مابین مولوی محمد حسین صاحب اور مولوی نورالدین صاحب ہوتی سنی آخر کا رنگی وقت کے سبب مولوی نورالدین صاحب کو بعض ان کے احباب نے اٹھایا اور گفتگو مذہبی کے واسطے آئندہ کے لئے التوا کرنا پڑا۔پھر ۷ ارا کتوبر ۱۸۹۱ء کولو دھانہ سے میرے نام خط مولوی نورالدین صاحب کا آیا جس کا مضمون یہ تھا کہ مولوی محمد حسین صاحب کی خبر تار برقی لودہا نہ میں