حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 155
حیات احمد جلد سوم حکیم صاحب۔کوئی بعید نہیں ہو۔خاکسار (۱۹) آیت خاتم النبیین نبوت کو ختم کرتی ہے۔آپ نبی جدید کی تجویز پر کیا دلیل رکھتے ہیں۔؟ حکیم صاحب۔خاتم النبیین کی آیت تشریعی انبیاء کے ختم کی دلیل ہے۔نبی بلا تشریع کے وجود کے مانع نہیں ہے۔ایسے نبی کے دلائل میں اس وقت پیش نہیں کرتا۔خاکسار (۲۰) لفظ عیسی ابن مریم اور دجال کے اصلی معنی (جس کی تأویل محتاج دلیل ہو ) آنحضرت صلعم اور صحابہ و تابعین کے زمانہ میں اس وقت تک کیا سمجھے گئے۔حکیم صاحب۔مجھے تمام لوگوں کے گل اقوال کی خبر نہیں۔خاکسار (۲۱) میں نے نہ تمام لوگوں کے اقوال پوچھے ہیں۔نہ گل اقوال۔جن لوگوں کے اقوال پر آپ کو اطلاع ہے۔ان کا کیا خیال تھا۔حکیم صاحب۔ابن مریم سے قرآن میں عیسیٰ نبی اللہ اسرائیل مراد ہے۔اور دجال کی نسبت مختلف خیال ہیں۔ابن صیاد کو حضرت عمر دجال سمجھتے اور اس پر قسم کھاتے تھے۔خاکسار (۲۲) احادیث نبویہ میں جو ابن مریم کا لفظ وارد ہے اس کے معنی صحابہ و تابعین وغیرہ مسلمین نے جہاں تک آپ کو علم ہے کیا سمجھے ہیں۔اور دقبال کی نسبت جو آپ نے اختلاف بیان کیا ہے۔اس کی ایک شق آپ نے بیان کی ہے دوسری نہیں کی ، اب بیان فرماویں کہ سوائے ابن صیاد کے بھی صحابہ و تابعین نے کسی کو دجال سمجھا ہے۔حکیم صاحب۔مجھے یاد نہیں کہ سوائے ابن صیاد کے کسی کو دقبال کہا گیا ہو اور ابن مریم کے ساتھ کسی نے جہاں تک مجھے یاد ہے اسرائیل کی قید نہیں لگائی۔خاکسار (۲۳) آنحضرت صلعم کے وقت میں ابن مریم کا لفظ قرآن میں اور پھر آنحضرت کے کلام میں اور عام لوگوں کے کلام میں جب کبھی بولا جا تا تھا تو اس لفظ کے اصل معنی کیا سمجھے جاتے تھے آیا وہی حضرت عیسی ابن مریم اسرائیلی یا کوئی اور معنی بھی کسی کے خیال میں آئے تھے۔