حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 142
حیات احمد ۱۴۲ جلد سوم ہی مخالفانہ خیالات خلق اللہ میں پھیلا رہے ہیں اور عوام الناس کو اپنے بے اصل وساوس سے ہلاک کرتے جاتے ہیں۔حالانکہ رسالہ توضیح مرام کے آخر میں نَصِيحَتا لکھا گیا تھا کہ جب تک تینوں رسالوں کو دیکھ نہ لیس کوئی رائے ظاہر نہ کریں بقیہ حاشیہ۔اوّل یہ کہ چند مولوی صاحبان نامی جیسے مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی احمد اللہ صاحب امرتسر بالا تفاق یہ فتویٰ لکھ دیں کہ ایسی جزئیات خفیفہ میں اگر الہامی یا اجتہادی طور پر اختلاف واقع ہو تو اس کا فیصلہ بذریعہ لعن طعن کرنے اور ایک دوسرے کو بددعا دینے کے جس کا دوسرے لفظوں میں مباہلہ نام ہے کرنا جائز ہے کیونکہ میرے خیال میں جزئی اختلاف کی وجہ سے مسلمانوں کو لعنتوں کا نشانہ بنانا ہرگز جائز نہیں کیونکہ ایسے اختلافات اصحابوں میں ہی شروع ہو گئے تھے۔مثلاً حضرت ابن عباس محدث کی وحی کو نبی کی وحی کی طرح قطعی سمجھتے تھے اور دوسرے ان کے مخالف بھی تھے۔ایسا ہی صاحب صحیح بخاری کا یہ عقیدہ تھا کہ کتب سابقہ یعنی توریت و انجیل وغیرہ محترف نہیں ہیں اور ان میں کچھ لفظی تحریف نہیں ہوئی۔حالانکہ یہ عقیدہ اجماع مسلمین کے مخالف ہے۔اور بائیں ہمہ سخت مضر بھی ہے اور نیز بہ ہداہت باطل۔ایسا ہی محی الدین ابن عربی رئیس المتصوّفین کا یہ عقیدہ ہے کہ فرعون دوزخی نہیں ہوگا اور نبوت کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہو گا۔اور کفار کے لئے عذاب جاودانی نہیں اور مذہب وحدت الوجود کے بھی گویا وہی موجد ہیں۔پہلے ان سے کسی نے ایسی واشگاف کلام نہیں کی۔سو یہ چاروں عقیدے ان کے ایسا ہی اور بعض عقائد بھی اجماع کے برخلاف ہیں۔اسی طرح شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ کا یہ عقیدہ ہے کہ اسمعیل ذبیح نہیں ہیں بلکہ اسحاق ذبیح ہے۔حالانکہ تمام مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ ذبیح اسمعیل ہے اور عید الضحیٰ کے خطبہ میں اکثر ملا صاحبان رورو کر انہیں کا حال سنایا کرتے ہیں۔اسی طرح صد با اختلافات گزشتہ علماء و فضلاء کے اقوال میں پائے جاتے ہیں۔اسی زمانہ میں بعض علماء مہدی موعود کے بارے میں دوسرے علماء سے اختلاف رکھتے ہیں کہ وہ سب حدیثیں ضعیف ہیں۔غرض جزئیات کے جھگڑے ہمیشہ سے چلے آتے ہیں۔مثلاً یزید پلید کی بیعت پر اکثر لوگوں کا اجماع ہو گیا تھا مگر امام حسین رضی اللہ عنہ نے اور اُن کی جماعت نے اس اجماع کو قبول نہیں کیا اور اس سے باہر رہے۔اور بقول میاں عبدالحق اکیلے رہے حالانکہ حدیث صحیح میں گو خلیفہء وقت فاسق ہی ہو بیعت کر لینی چاہئے اور تخلف معصیت ہے۔پھر انہیں حدیثوں پر نظر ڈال کر دیکھو۔جو مسیح کی پیشگوئی کے بارے میں ہیں کہ کس قدر اختلافات سے بھری ہوئی ہیں۔مثلاً صاحب بخاری نے دمشق کی حدیث کو نہیں لیا اور اپنے سکوت سے ظاہر کر دیا کہ ان کے نزدیک یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔اور ابن ماجہ نے بجائے دمشق کے بیت المقدس لکھا ہے اب حاصل