حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 141 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 141

حیات احمد ۱۴۱ جلد سوم ازالہ اوہام میں مبسوط اور مفصل طور پر اس کا بیان ہے۔ایسا ہی ملائک اور لیلۃ القدر اور معجزات مسیح کے بارے میں جو کچھ ان رسالوں میں لکھا گیا ہے قبل اس کے جو علمائے اسلام غور سے ان مباحث کو پڑھیں اور تدبر سے ان کے مطلب کو سوچیں یوں بقیہ حاشیہ۔بڑے بڑے مخالفوں کے نام روانہ کئے ہیں تو پھر آپ سے مباہلہ کرنے میں کونسی تامل کی جگہ ہے۔یہ بات سچ ہے کہ اللہ جل شانہ کی وحی اور الہام سے میں نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔اور یہ بھی میرے پر ظاہر کیا گیا ہے کہ میرے بارے میں پہلے قرآن شریف میں اور احادیث نبویہ میں خبر دی گئی ہے اور وعدہ دیا گیا ہے۔سو میں اسی الہام کی بناء پر اپنے تئیں وہ موعود مثیل سمجھتا ہوں جس کو دوسرے لوگ غلط نہی کی وجہ سے مسیح موعود کہتے ہیں۔مجھے اس بات سے انکار بھی نہیں کہ میرے سوا کوئی اور مثیل مسیح بھی آنے والا ہو۔بلکہ ایک آنے والا تو خود میرے پر بھی ظاہر کیا گیا ہے جو میری ہی ذریت میں سے ہو گا لیکن اس جگہ میرا دعوئی جو بذریعہ الہام مجھے یقینی طور پر سمجھایا گیا ہے صرف اتنا ہے کہ قرآن شریف اور حدیث میں میرے آنے کی خبر دی گئی ہے۔میں اس سے ہرگز انکار نہیں کر سکتا اور نہ کروں گا کہ شائد مسیح موعود کوئی اور بھی ہو۔اور شائد یہ پیشگوئیاں جو میرے حق میں روحانی طور پر ہیں ظاہری طور پر اس پر جمتی ہوں۔اور شائد سچ مچ دمشق میں کوئی مثیل مسیح نازل ہو لیکن یہ میرے پر کھول دیا گیا ہے کہ مسیح ابن مریم جس پر انجیل نازل ہوئی تھی فوت ہو چکا ہے اور بیٹی کی روح کے ساتھ اس کی روح دوسرے آسمان میں اور اپنے سماوی مرتبہ کے موافق بہشت بریں کی سیر کر رہی ہے۔اب وہ روح بہشت سے بموجب وعدہ الہی کے جو بہشتیوں کے لئے قرآن شریف میں موجود ہے نکل نہیں سکتی اور نہ دو موتیں ان پر وارد ہو سکتی ہے۔ایک موت جو اُن پر وارد ہوئی وہ تو قرآن شریف سے ثابت ہے اور ہمارے اکثر مفسر بھی اس کے قائل ہیں۔اور ابن عباس کی حدیث سے بھی اس کا ثبوت ظاہر ہے اور انجیل میں بھی لکھا ہے اور نیز توریت میں بھی۔اور دوسری موت ان کے لئے تجویز کرنا خلاف نص وحدیث ہے۔وجہ یہ کہ کسی جگہ ذکر نہیں کیا گیا کہ وہ دو مرتبہ مریں گے۔یہ تو میرے الہامات اور مکاشفات کا خلاصہ ہے جو میرے رگ وریشہ میں رچا ہوا ہے اور ایسا ہی اس پر ایمان رکھتا ہوں۔جیسا کتاب اللہ پر اور اسی اقرار اور انہیں لفظوں کے ساتھ میں مباہلہ بھی کروں گا اور جو لوگ اپنے شیطانی اوہام کو ربانی الہام قرار دے کر مجھے جہنمی اور ضال قرار دیتے ہیں ایسا ہی ان سے بھی ان کے الہامات کے بارے میں اللہ جل شانہ کی حلف لوں گا۔کہاں تک انہیں اپنے الہامات کی یقینی معرفت حاصل ہے۔مگر بہر حال مباہلہ کے لئے میں مستعد کھڑا ہوں لیکن امور مفصلہ ذیل کا تصفیہ پہلے مقدم ہے۔