حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 143 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 143

حیات احمد ۱۴۳ جلد سوم مگر وہ آخر تک صبر نہیں کر سکے۔کسی نے کہا کہ یہ شخص کافر ہے۔اور کسی نے کہا کہ اس کو مالیخولیا ہے۔اور چونکہ اکثر ان میں موٹی عقل کے آدمی اور کجی سے بہ نسبت راستی کے زیادہ پیار کرنے والے ہیں۔اس لئے ان مولوی صاحبوں کے بیانات کا ان کے بقیہ حاشیہ کلام یہ ہے کہ ان بزرگوں نے باوجود ان اختلافات کثیرہ کے ایک دوسرے کے مباہلہ کی درخواست ہرگز نہیں کی۔اور ہرگز روا نہیں رکھا کہ ایک دوسرے پر لعنت کریں بلکہ بجائے لعنت کے حدیث سناتے رہے کہ پرلو اخْتِلَافُ أُمَّتِي رَحْمَةٌ - اب یہ نئی بات نکلی ہے کہ ایسے اختلافات کے وقت میں ایک دوسرے پر لعنت کریں۔اور بددعا اور گالی اور دشنام کر کے فیصلہ کرنا چاہیں۔ہاں اگر کسی ایک شخص پر سراسر تہمت کی راہ سے کسی فسق اور معصیت کا الزام لگایا جاوے۔جیسا کہ مولوی اسمعیل صاحب ساکن علی گڑھ نے اس عاجز پر لگایا تھا کہ نجوم سے کام لیتے ہیں اور اس کا نام الہام رکھتے ہیں تو مظلوم کو حق پہنچتا ہے کہ مباہلہ کی درخواست کرے۔مگر جزئی اختلافات میں جو ہمیشہ سے علماء و فقراء میں واقع ہوتے رہتے ہیں مباہلہ کی درخواست کرنا یہ غزنوی بزرگوں کا ہی ایجاد ہے لیکن اگر علماء ایسے مباہلہ کا فتویٰ دیں تو ہمیں عذر بھی کچھ نہیں کیونکہ ہم ڈرتے ہیں کہ اگر ہم اس ملاعنہ کی طریق سے جس کا نام مباہلہ ہے اجتناب کریں تو یہ ہی اجتناب ہمارے گریز کی وجہ سمجھی جائے اور حضرات غزنوی خوش ہو کر کوئی دوسرا اشتہار عبدالحق کے نام سے چھپوا دیں اور لکھ دیں کہ مباہلہ قبول نہیں کیا اور بھاگ گئے لیکن دوسری طرف ہمیں یہ بھی خوف ہے کہ اگر ہم مسلمانوں پر خلاف حکم شرع اور طریق فقر کے لعنت کرنے کے لئے امرتسر پہنچیں تو مولوی صاحبان ہم پر یہ اعتراض کر دیں کہ مسلمانوں پر کیوں لعنتیں کیں اور ان حدیثوں سے کیوں تجاوز کیا جو مومن لعان نہیں ہوتا اور اس کے ہاتھ اور زبان سے لوگ محفوظ رہتے ہیں۔سو پہلے یہ ضروری ہے کہ فتویٰ لکھا جاوے اور اس فتویٰ پر ان تینوں مولوی صاحبان کے دستخط ہوں جن کا ذکر میں لکھ چکا ہوں جس وقت وہ استفسار مصدقہ ہمواہیر علماء میرے پاس پہنچے تو پھر حضرت غزنوی مجھے امرتسر پہنچا سمجھ لیں۔ماسوا اس کے یہ بھی دریافت طلب ہے کہ مباہلہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں منجانب اللہ تجویز کیا گیا تھا وہ کفار، نصاری کی ایک جماعت کے ساتھ تھا جو نجران کے معزز اور مشہور نصرانی تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ مباہلہ جو ایک مسنون امر ہے کہ اس میں ایک فریق کا فریا ظالم کس کو خیال کیا گیا ہے اور نیز یہ بھی دریافت طلب ہے کہ جیسا کہ نجران کے نصاری کی ایک جماعت تھی آپ کی کوئی جماعت ہے یا صرف اکیلے میاں عبدالحق صاحب قلم چلا رہے ہیں۔تیسرا یہ امر بھی تحقیق طلب ہے کہ اس اشتہار کے لکھنے والے درحقیقت کوئی صاحب آپ کی جماعت میں سے ہیں جن کا نام عبد الحق ہے یا یہ فرضی نام ہے اور یہ بھی دریافت طلب ہے کہ آپ بھی