حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 139
حیات احمد علماء پر اتمام حجت ۱۳۹ جلد سوم مارچ ۱۸۹۱ء میں آپ نے پسند کیا کہ تمام اُن علماء پر جو اس مخالفت میں پیش پیش ہیں اتمام حجت کیا جائے اور مقصد یہ تھا کہ اتمام حجت اُن سب پر ہو جائے گا جو ان کے زیر اثر ہیں وہ عوام ہوں یا علماء۔اس مقصد کے لئے آپ نے ۲۶ / مارچ ۱۸۹۱ء کو جبکہ آپ لودھانہ ہی میں مقیم تھے ذیل کا اعلان جاری کیا۔بقیہ حاشیہ اَخَافُ اَنْ يُقْتَلُوْن کا عذر پیش کرتا تھا مگر بالآخر اِنَّنِي مَعَكُمْ أَسْمَعُ وَاری کی بشارت آمیز آواز پر سرکش ناخدا ترس قوم کی طرف بے خوف چل دیا جہاں بھی عادت اللہ اس مسجد کو تقویت دے رہی ہے۔عجب ہیں وہ دل جو اس پر بھی رقیق ہونے میں نہ آئیں۔انہیں ہر وقت یہ حدیث پیش نظر رکھنی چاہئے۔مَـنْ عَـادی لِيْ وِلِيًّا فَقَدْ أَذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ۔خداوند فرماتا ہے میرے دوست سے جو بیر کرے میں اسے اپنے ساتھ لڑنے کا نوٹس دیتا ہوں۔وہ خوف کریں کہ ایسا نہ ہو کہ وہ خدا سے لڑنے والے ٹھہریں۔خط حضرت مرزا صاحب بنام مولانا مولوی نورالدین صاحب بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ مند و می مکر می اخویم السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کل آپ کی خدمت میں مولوی عبدالجبار صاحب اور میاں عبدالحق صاحب کے خط روانہ کر چکا ہوں۔اور مجھے اس بات سے بہت خوشی ہے جس کا میں شکر ادا نہیں کر سکتا کہ مولیٰ کریم اور میرا آقا محسن عَزَّ اسْمُهُ جَلَّ شَانُهُ مجھے فتح و نصرت کی بشارت دیتا ہے اور ان لوگوں کے فیصلہ کے لئے مجھے ایک راہ بتا تا ہے جنہوں نے الہامات کا ادعا کر کے اس عاجز کو ضال ملحد اور جہنمی قرار دیا ہے اور جرات کر کے اس مضمون کو شائع بھی کر دیا اور جوان باتوں سے اپنے بھائی مسلمان کو آزار پہنچتا ہے اور اس کی تذلیل ہوتی ہے اس کی کچھ بھی پروا نہیں کی اور طریق تقوی کی رعایت