حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 138 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 138

حیات احمد ۱۳۸ جلد سوم مولوی عبدالجبار صاحب نے اس خط کا کوئی جواب نہ دیا اور اپنی خاموشی سے ثابت کر دیا کہ وہ اس کا جواب نہیں دے سکتے تھے۔یہ واقعات فروری ۱۸۹۱ء کے ہیں۔بقیہ حاشیہ۔کرسکیں جو بجائے خود حضرت کی صداقت اور بلند ہمتی کے مظہر ہیں اس لئے اس مکتوب کو یہاں درج کرتا ہوں۔اس خط کی ایک نقل حضرت نے حضرت حکیم الامت کو بھی بھیجی تھی وہ بھی حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے ریمارک کے ساتھ اسی ذیل میں درج کر رہا ہوں۔۹ ر فروری ۱۸۹۱ء کو حضرت اقدس نے جو مکتوب لکھا تھا اس میں عبدالحق غزنوی کے اشتہار کا ذکر ہے اور آپ نے یہ خیال بھی ظاہر فرمایا که در حقیقت یہ اشتہار مولوی عبدالمجید صاحب کی طرف سے معلوم ہوتے ہیں۔“ اور اس مکتوب میں بھی حضرت نے اشارہ کیا ہے۔مولوی عبدالجبار صاحب نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔چونکہ حضرت حکیم الامت کے نام کا مکتوب رہ گیا ہے اس لئے اسے بھی یہاں درج کر دیتا ہوں۔اس خط پر جو نوٹ لکھا گیا ہے وہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب صافی رضی اللہ عنہ کا لکھا ہوا ہے، چنانچہ لکھتے ہیں۔اب ہم ایک خط چھاپتے ہیں جو حضرت مرزا صاحب نے مولانا مولوی نورالدین صاحب کے نام لکھا ہے۔اس خط کو پڑھتے وقت ہمیں قرآن حمید کی وہ آیت یاد آئی اور جناب ہادی کامل علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت کے اثبات میں ایک بڑی زبر دست خطابی دلیل پیش کرتے ہیں۔اور وہ یہ ہے۔قل هذِهِ سَبِيلِ ادْعُوا إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي ے ان کو کہہ دو کہ میں تمہیں اللہ کی طرف جو بلاتا ہوں تو میں اپنے مشن کی طرف صداقت کی نسبت مذبذب و متردد نہیں ہوں۔بخلاف اس کے مجھ کو کامل وثوق ہے پوری بصیرت ہے کہ میں راست باز ہوں اور اس لئے بالیقین کامیاب ہونے والا ہوں۔حقیقت یہ ہے کہ اہل سکینہ صادق ہیں اور مذبذب ولی مضطرب معتمد کاذب کے لہجے اور کلام کی تکونیات میں فرق عظیم ہوتا ہے۔حضرت مرزا صاحب کا یہ خط بڑی بھاری دلی طمانیت اپنے مولائے کریم پر قوی اعتماد و وثوق کی خبر دیتا ہے۔فقرہ فقرہ سے اس کے بامذاق عارفین سمجھ سکتے ہیں کہ پس پردہ کوئی حمایت و نصرت کی بشارت و تسلی دینے والا ضرور ہے اور اُس وادی ایمن کے منتخب اولو العزم کی طرح جو ابتدا میں ضعف بشریت کی تحریک سے يوسف : ١٠٩