حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 140
حیات احمد ۱۴۰ جلد سوم ضروری اشتہار لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةِ وَيَحْلِي مَنْ حَيَّ عَنْ بَيْنَةٍ ناظرین پر واضح ہو کہ مسیح ابن مریم کے نزول کی حقیقت جو خدا تعالیٰ نے اس عاجز پر کھولی ہے جس کے بارے میں کچھ تھوڑا سا رسالہ فتح اسلام اور توضیح مرام میں ذکر ہے اور رسالہ بقیہ حاشیہ نہیں رکھی۔اس لئے یہ امر خدا تعالیٰ کی جناب میں کچھ سہل و آسان نہیں بلکہ ایسا ہی ہے جیسے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر اتہام لگایا گیا تھا سو مجھے خدا تعالیٰ کی نصرت کی خوشبو آ رہی ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ مجھے ایک ایسی راہ کی رہبری کرتا ہے جس سے جھوٹوں کا جھوٹ کھل جائے اگر یہ الزام صرف میری ذات تک محدود ہوتا تو دوسرا امر تھا لیکن اس کا بداثر ہزاروں لوگوں پر ہوتا ہے۔جہنمی اور ضال کے لفظ میں سب قسم کے عیب بھرے ہوئے ہیں سو میں انشاء اللہ القدیر ان امور کے پورے طور پر کھلنے کے بعد جن کی مجھے بشارت دی گئی ہے اور پھر ان کے چھپوانے کے بعد ان لوگوں سے رجسٹر شدہ خطوط کے ذریعہ سے درخواست کروں گا اور انشاء اللہ القدیر وہ ایسا امر ہو گا جو کا ذب کی پردہ دری کر دے گا۔وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد ۱۶ / فروری ۱۸۹۱ء مکتوبات احمد یہ جلد ۲ صفحہ ۱۱۰، ۱۱۱۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحه ۱۰۵ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) مکتوب بنام مولوی عبدالجبار غزنوی السلام علیکم۔ایک اشتہار جو عبدالحق کے نام سے جاری کیا گیا ہے۔جس میں مباہلہ کی درخواست کی ہے کل کی ڈاک میں مجھے ملا۔چونکہ میں نہیں جانتا کہ عبدالحق کون ہے۔آیا کسی گروہ کا مقتدی یا مقتدا ہے۔اس واسطے آپ ہی کی طرف خط ہذا لکھتا ہوں۔اس خیال سے کہ میری رائے میں وہ آپ ہی کی جماعت میں سے ہے۔اور اشتہار بھی دراصل آپ ہی کی تحریک سے لکھا گیا ہو گا۔پس واضح ہو کہ مباہلہ سے مجھے کسی طرح سے اعتراض نہیں جس حالت میں میں نے اس مدعا کی غرض سے قریب بارہ ہزار کے خطوط واشتہارات مختلف ملکوں میں الانفال : ۴۳