حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 137
حیات احمد ۱۳۷ جلد سوم آگ سلگ رہی تھی غزنوی جرگہ کے رئیس ان ایام میں مولوی عبدالجبار صاحب تھے جو حضرت مولوی عبداللہ غزنوی رحمہ اللہ علیہ کے صاحبزادے تھے۔مولوی عبدالجبار صاحب میں ایک حد تک شرافت اور خدا ترسی تھی مگر وہ اپنی جماعت کے مقابلہ میں کھڑے نہ رہ سکتے تھے ان کے جرگہ نے اس خصوص میں عبد الحق غزنوی کو قربانی کا بکرا بنایا۔ایک ضمنی واقعہ اور مولوی عبدالرحیم غزنوی بھی متشدد تھا۔چنانچہ اس نے خاکسار عرفانی کو ایک مرتبہ سر بازار پیٹا تھا۔اسے یہ شبہ تھا کہ مولوی سید احمد صاحب غزنوی کا ایک بیٹا عبدالمالک احمدیت کی تائید کرتا تھا اور میرے پاس اُس کی آمد و رفت تھی اس لئے کہ میں اسی محلہ میں منشی محمد یعقوب مرحوم برا در حافظ محمد یوسف صاحب کے مکان پر مقیم تھا اور وہ وہاں آتا جاتا تھا اور مجھ سے گفتگو کرتا رہتا تھا اور احمدیت کے پیش کردہ مسئلہ وفات مسیح پر اسے یقین ہو چکا تھا۔مسیح موعود کے مسئلہ میں اسے صرف یہ اشتباہ تھا کہ احادیث میں ابنِ مریم ہے مثیلِ ابنِ مریم نہیں۔چونکہ غزنوی جرگہ میں احمدیت کے نفوذ کا خطرہ ہو گیا اور اس کے انسداد کے لئے عبدالرحیم نے مجھ پر اپنی مسجد کے پاس ہی درس قرآن سے اٹھ کر مولوی عبد الجبار صاحب کی موجودگی میں وحشیانہ حملہ کر دیا تھا۔میں نے عدالت میں اُن پر نالش کر دی مکرم خواجہ یوسف شاہ صاحب (جو امرتسر کے ممتاز شہری اور مسلمانوں کے لیڈر اور حکومت کے معتمد علیہ تھے ) کی عدالت میں مقدمہ دائر ہو گیا مگر منشی جیون علی صاحب سپرنٹنڈنٹ ڈپٹی کمشنر امرتسر کی تحریک پر بابو محکم دین صاحب مختار رضی اللہ عنہ نے مجھ کو معاف کرنے کی تحریک کی اور مقدمہ واپس لے لیا گیا۔شاید میں اس واقعہ کو تفصیل سے کبھی اپنی زندگی کے نشیب و فراز میں لکھوں یہاں ضمناً ذکر اس سلسلہ میں آ گیا کہ غزنوی جرگہ پیچھے رہ کر عبدالحق کی گردن پر بندوق رکھ کر حملے کر رہا تھا۔چنانچہ عبدالحق نے ایک مباہلہ کا اشتہار بھی دیا۔اور اس سلسلہ میں حضرت اقدس نے مولوی عبدالجبار صاحب کو بھی مخاطب کیا۔حاشیہ۔مولوی عبدالجبار صاحب کے خط پر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے بھی ایک مختصر سا ریمارک لکھا تھا اس خط پر تفصیلی تذکرہ میں نے مکتوبات جلد ششم میں بھی کیا ہے مگر یہاں میں اس سلسلہ سوانح حیات میں اس لئے درج کر رہا ہوں کہ اس کتاب کے پڑھنے والے اور آنے والا مؤرخ بیک وقت ان صحیح واقعات سے استفادہ