حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 136
حیات احمد ۱۳۶ جلد سوم ہے۔اور مولوی محمد حسین صاحب کو اختیار ہو گا چاہیں وہ پہلا پر چہ منظور کر لیں یا اس عاجز کا لکھنا منظور رکھیں۔جس طرح پسند کریں مجھے منظور ہے۔(۴) ہر ایک پرچہ فریقین کی ایک ایک نقل بعد دستخط صاحب راقم فریق ثانی کو اُسی وقت بلا توقف دی جائے اور پھر جلسہ عام میں وہ پرچہ بآواز بلند سنا دیا جاوے۔(۵) اس بحث میں تقریر یا تحریراً کسی تیسرے آدمی کا ہرگز دخل نہ ہو تصریحا نہ اشارتا نہ کنایہ اور جلسہ بحث میں کسی کتاب سے مدد نہ لی جائے بلکہ جو کچھ فریقین کو زبانی یاد ہے وہی لکھا جاوے تا تکلف اور تصنع کو اس میں دخل نہ ہو۔لیکن اگر کوئی فریق یہ ظاہر کرے کہ میں بغیر کتابوں کے کچھ نہیں لکھ سکتا تو پہلے یہ تحریری اقرار اپنی عجز بیانی کا دے کر پھر اس کتاب سے مدد لینے کا اختیار ہوگا۔(1) اگر کوئی فریق بعض امور تمہیدی قبل از اصل بحث پیش کرنا چاہے تو فریق ثانی کو بھی اختیار ہوگا کہ ایسے ہی امور تمہیدی وہ بھی پیش کرے مگر دونوں کی طرف سے یہ تمہیدی امور ایک ایک پر چہ تحریری طور پر پیش ہوں گے ایسے پرچہ کی نسبت فریقین کو اختیار ہوگا۔چوکھی جنگ مکتوبات احمد یہ جلد ۴ صفحه ۲۳ ۲۴۔مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۳۳۵، ۳۳۶ مطبوعہ ۲۰۰۸) ایک طرف تو مولوی محمد حسین صاحب سے یہ سلسلہ خط و کتابت کا جاری تھا اور دوسری طرف جیسا کہ میں پہلے بھی لکھ آیا ہوں لکھو کے کے علماء جو اپنے آپ کو صاحب الہام بھی سمجھتے تھے اور ایک طبقہ میں ان کا اثر اور رسوخ بھی تھا۔ان کے ہاں سلسلہ بیعت اور ارشاد بھی ایک حد تک تھا وہ عالمانہ حیثیت سے نہیں بلکہ اپنی روحانی حیثیت کے رنگ میں مخالفت کا بازار گرم کئے ہوئے تھے اور لودھانہ کے علماء تو روز اول ہی سے دشمن تھے۔اور چوتھی طرف غزنوی جرگہ میں بھی مخالفت کی نوٹ۔مکتوب ہذا مکرم عرفانی صاحب کے جمع کردہ مکتوبات میں شرط نمبر ۶ تک ہی چھپا ہے جبکہ مکمل مکتوب گیارہ شرائط پر مشتمل ہے۔نظارت اشاعت نے ایڈیشن ۲۰۰۸ء میں مکمل مکتوب اشاعۃ السنہ جلد ۱۳ نمبر ۳ صفحہ ۹۶ کے حوالہ سے شائع کیا ہے۔( ناشر )