حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 133
حیات احمد ۱۳۳ جلد سوم زیادہ کیا کہوں خدا تعالیٰ آپ کے دل کو آپ سمجھا دے۔مکرر یہ کہ اول قرآنِ کریم کی رو سے دیکھا جائے گا کہ کس کس آیت کو آپ حضرت مسیح ابن مریم کے زندہ ہونے کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں۔اور اگر بغیر کسی جرح قدح کے وہ ثبوت آپ کا مسلم ٹھہرے گا تو بھلا پھر کس کی مجال ہے کہ اس سے انکار کر جائے لیکن اگر قرآن شریف سے آپ ثابت نہ کریں گے تو پھر آپ کو اختیار ہو گا کہ بعد تحریری اقرار اس بات کے که قرآنی ثبوت پیش کرنے سے ہم عاجز ہیں اور احادیث صحیحہ غیر متعارضہ کو اس ثبوت کے لئے آپ پیش کریں اور جب آپ ایسا ثبوت دے چکیں گے تو منصفین ترازوئے انصاف لے کر خود جانچ کر لیں گے کہ کس طرف پلّہ ثبوت بھاری ہے۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي راقم مرزا غلام احمد و رمئی ۱۸۹۱ء مکتوبات احمد یہ جلد ۴ صفحه ۲۲ مکتوبات احمد جلد اصفحه ۳۳۳٬۳۳۲ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مخدومی مکر می اخویم حضرت مولوی صاحب سَلَّمه اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ اس عاجز کی گزارش ہے کہ اب فتنہ مخالفت ہر جگہ بڑھتا جاتا ہے۔اور مولوی محمد حسین صاحب جس جگہ پہنچتے ہیں یہی وعظ شروع ہے کہ یہ شخص ملحد اور دین سے خارج اور کذاب اور دقبال ہے۔میں نے اول نرمی سے یہ عرض کیا تھا کہ میرا مسیح ہونے کا دعوی مبنی بر الہام ہے اور جو امور محض الہام پر مبنی ہوں وہ زیر بحث نہیں آ سکتے بلکہ خدا تعالیٰ رفتہ رفتہ ان کی سچائی آپ ظاہر کرتا ہے ہاں مسیح کی وفات یا حیات کا مسئلہ گو