حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 132
حیات احمد ۱۳۲ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصِلَّيْ مکرمی حضرت مولوی صاحب سَلَّمه السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته جناب آپ خوب جانتے ہیں کہ اصلی امر اس بحث میں جناب مسیح ابن مریم کی وفات یا حیات ہے۔اور میرے الہام میں بھی یہی اصل قرار دیا گیا ہے۔کیونکہ الہام یہ ہے کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے موافق تو آیا ہے۔سو پہلا اور اصل امر الہام میں بھی یہی ٹھہرایا گیا ہے کہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے۔اب ظاہر ہے اور ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اگر آپ حضرت مسیح کا زندہ ہونا ثابت کر دیں گے تو جیسا کہ پہلا فقرہ الہام کا اس سے باطل ہو گا ایسا ہی دوسرا فقرہ بھی باطل ہو جائے گا کیونکہ خدا تعالیٰ نے میرے دعوی کی شرط صحت مسیح کا فوت ہونا بیان فرمایا ہے اور یہ حکم إِذَا فَاتَ الشَرْطُ فَاتَ الْمَشْرُوْطُ مسیح کی زندگی کے ثبوت سے دوسرا دعوی میرا خود ہی ٹوٹ ہو جائے گا اور اس سے میرے دعوی مثیل مسیح میں کسی پر جبر و اکراہ تو نہیں کہ خوامخواہ اس کو قبول کر وصرف یہ کہا جاتا ہے کہ جس پر مسیح ابن مریم کا فوت ہو جانا ثابت ہو جائے پھر وہ خدا تعالیٰ سے ڈر کر میری صحبت میں رہ کر میرے دعوی کی آزمائش کرے۔اب ظاہر ہے کہ پھر وفات وحیات پر قرعہ پڑا۔بہر حال یہی امر حقیقی اور طبعی طور پر مبحوث عَنْهُ اور متنازعہ فیہ ٹھہرتا ہے۔ماسوا اس کے آپ کی غرض دوسری بحث سے جو آپ کے دل میں ہے وہ اس بحث میں بھی بخوبی حاصل ہو جاتی ہے۔کیونکہ میں اقرار کرتا ہوں اور حلفاً کہتا ہوں کہ اگر آپ مسیح کا زندہ ہونا کلام الہی سے ثابت کریں گے تو میں اپنے دعویٰ سے دست بردار ہو جاؤں گا اور الہام کو شیطانی القاسمجھ لوں گا۔اور تو بہ کروں گا۔اب حضرت اس سے جلد سوم