حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 134
حیات احمد ۱۳۴ جلد سوم الہام کا اصل الاصول ہے مگر بباعث ایک شرعی امر ہونے کے زیر بحث آ سکتا ہے اور اگر مسیح کی زندگی ثابت ہو جائے تو میرا دعویٰ مؤخر الذکر خود ہی ٹوٹ جاتا ہے۔لیکن یہ عرض میری منظور نہیں کی گئی اور اصل حقیقت کو متحرف کر کے منشی سعد اللہ صاحب نے جو چاہا چھپوا دیا اور لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے کی کوشش کی اور میرے پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ وہ لَيْلَةُ الْقَدر سے منکر ہیں۔اور اس کے خلاف اجماع معنے کرتے ہیں اور یہ الزام لگایا گیا ہے کہ ملائکہ کے وجود سے منکر ہیں اور ملائکہ کو صرف قو تیں سمجھتے ہیں حالانکہ یہ سارے الزام محض بہتان ہیں یہ عاجز اسی طرح ان سب باتوں پر ایمان رکھتا ہے جو قال اللہ وقال الرسول سے ثابت ہیں اور سلف صالحین کا گروہ ان کو مانتا ہے۔سو اس وقت مجھے خیال ہے کہ میرا ہر حال میں خدا نا صر ہے۔مجھے ہر طرح سے اتمام حجت کرنا چاہئے لہذا مکلف ہوں کہ میں نے مولوی محمد حسین صاحب کی یہ درخواست بھی منظور کی کہ مسیح موعود میں بحث کی جائے مگر بحث تحریری ہوگی اور تحریر میں کسی دوسرے کا ہرگز دخل نہیں ہو گا۔کیونکہ اب میں ایک مہجور کی طرح آدمی ہوں میرے ہاتھوں کی طرح کسی دوسرے کے ہاتھ یہ کام نہیں کریں گے۔مولوی محمدحسین صاحب بھی اپنے ہاتھ سے لکھیں اور میں اپنے ہاتھ سے لکھوں گا درمیانی شرائط کا تصفیہ بحث سے ایک دن پہلے ہو جائے۔لیکن دس روز پہلے مجھے خبر ملنی چاہئے تا کہ لوگ جو شکوک و شبہات میں غرق ہو گئے ہیں ان کو بذریعہ خطوط و اشتہارات میں بلالوں اور اس بحث سے ایک عام نفع مترتب ہو۔اور ہر روز کا جھگڑا طے ہو جائے۔اور آپ پر یہ فرض ہے کہ آپ براہ مہربانی آج محمد حسین صاحب کو اطلاع دے دیں اور بحث سے دس دن پہلے مجھے بھی مطلع فرماویں۔والسلام خاکسار غلام احمد ۲۷ مئی ۱۸۹۱ء ( مکتوبات احمد یہ جلد ۴ صفحه ۲۲ ،۲۳۔مکتوبات احمد جلد اصفحه ۳۳۴٬۳۳۳ مطبوعہ ۲۰۰۸ء)