حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 88
حیات احمد ۸۸ جلد دوم حصہ اول پنڈت شام لال کو میں نے دیکھا ہے وہ چھوٹے بازار میں رہا کرتا تھا حضرت اقدس نے اس کو ایک گلستاں بھی پڑھنے کے لئے عطا فرمائی یہ شخص حضرت اقدس کے پاس عرصہ تک ملازم تھا پنڈت لیکھرام جب قادیان آیا تو اس نے شام لال پر دباؤ ڈلوا کر اس خدمت سے الگ کرا دیا اور قومی اثر کے ماتحت گو وہ الگ ہو گیا پھر بھی کچھ عرصہ تک مخفی طور پر اپنی ملازمت کے لئے جاتا رہا مگر آخر حضرت نے اسے یہ کہا کہ یا تو تم کھلم کھلا یہ کام کرو ورنہ میں اس طرح پر رکھنا نہیں چاہتا۔اسے الگ کر دیا۔کچھ عرصہ تک پھر ایک اور برہمن کا لیہ بوا داس بھی یہ کام کرتا رہا لیکن جب عام لوگوں کا رجوع ہونے لگا اور ان مکالمات و مخاطبات کی شہادت کے لئے میدان وسیع ہو گیا تو پھر یہ التزام نہ رہا اور نہ اس کی ضرورت سمجھی۔انہیں ایام میں آپ کا یہ بھی معمول تھا کہ لالہ ملا وامل اور شرمپت رائے وغیرہ جو کثرت سے آپ کے پاس آتے تھے ان کو قبل از وقت بعض پیشگوئیوں سے اطلاع دیتے تھے اور پھر وہی لوگ ڈاکخانہ جایا کرتے تھے اور خطوط اور منی آرڈر وغیرہ لاتے تھے۔اور اپنے ہاتھوں سے پورا کرتے تھے۔ان واقعات کے متعلق براہین احمدیہ کے مختلف مقامات میں تصریحات ہیں ان تفاصیل میں میں نہیں جاؤں گا۔مجھے صرف حضرت کے طرز عمل کا ذکر مقصود تھا۔براہین احمدیہ کی طبع و اشاعت کے وقت عام طور پر جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا ہے ایسے الہامات کو ( جو بشارات اور پیشگوئیوں پر مشتمل ہوتے تھے ) خصوصاً حضرت اقدس پنڈت شام لال اور بوا داس کا لیہ سے لکھوالیا کرتے تھے اور یہ معمول تھا کہ اور لوگوں کو سنا دیا بھی کرتے تھے چنانچہ میں آپ کی ابتدائی چالیس سالہ زندگی کے حالات کے سلسلہ میں لکھ آیا ہوں کہ آپ اپنے خواب اور مکاشفات سنایا کرتے تھے اور دوسروں کے سن کر اُن کی تعبیر بھی فرمایا کرتے تھے۔جوں جوں براہین کی اشاعت ہوتی گئی اور اس اثنا میں بعض لوگوں نے آپ کے ساتھ عقیدت و اخلاص کے تعلقات پیدا کر لئے تو آپ دوران اشاعت براہین میں جو الہام یا مکاشفہ ہوتا اس سے ان بیرونی لوگوں کو بھی بذریعہ مکتوب مطلع کر دیا کرتے تھے اس حقیقت کی صراحت ان