حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 89 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 89

حیات احمد ۸۹ جلد دوم حصہ اوّل مکتوبات کے پڑھنے سے ہوتی ہے جن کو میں شائع کر چکا ہوں۔( مکتوبات احمد یہ مرتبہ عرفانی) خصوصاً مکتوبات کی پہلی جلد جو میر عباس علی صاحب کے نام کی ہے اس میں یہ سلسلہ متواتر نظر آئے گا پھر حضرت اقدس نے جو کتا ہیں اپنے دعویٰ مسیح موعود کے بعد تالیف فرمائیں یا براہین کے بعد لکھی ہیں ان میں ایسی پیشگوئیوں کا ذکر بھی کیا ہے جو دوسروں کی شہادت کے ساتھ ثابت ہیں اس لئے کہ جب خدا تعالیٰ نے آپ کو بشارت دی اسی وقت آپ نے ان لوگوں کو جن کے نام دیئے گئے ہیں اس سے آگاہ کیا اور جب وہ وقوع میں آئی تو وہ لوگ اس کے گواہ ہو کر مصدق ٹھہرے۔فی الجملہ براہین کی طبع کی زمانہ میں تحریر الہامات کے لئے روز نامچہ آپ نے رکھا ہوا تھا اور اس کے لکھنے والے ہندو تھے اور آپ کی اس زمانہ کی پیشگوئیوں کے سب سے بڑے گواہ یہی یا دوسرے ہندو تھے خصوصیت سے لالہ ملا وامل اور شرمپت رائے۔شہادت کو تلف کرنے کے لئے مخالفین کے منصوبے اسی سلسلہ میں میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ ان گواہوں کو بہکانے اور تکذیب و تردید کے لئے بھی بڑا زور دیا گیا۔مختلف طریقوں سے یہ کوشش کی گئی۔واقعات کے تاریخی سلسلہ میں اس کی تفصیل کروں گا ( انشاء اللہ العزیز ) مگر اس وقت اتنا ہی کہہ دینا کافی ہے کہ سب سے بڑا حصہ آریہ سماج نے لیا۔پنڈت لیکھرام خصوصیت سے اس کے لئے کوشش کرتا رہا جب وہ صوابی ضلع پشاور میں تھا اس وقت وہ ان لوگوں کو خطوط لکھتا رہا اور جب وہ ملازمت سے علیحدہ ہو کر آریہ سماج کے اپدیشک کی حیثیت سے پھرتا تھا اس وقت اس نے قادیان آ کر بھی بڑا زور لالہ ملا وامل اور شرمیت رائے پر ڈالا کہ جن پیشگوئیوں کی صداقت کے متعلق ان کی شہادت ہے وہ اس کی تردید کریں مگر انہوں نے اس کی جرات نہ کی اور بالآ خر لیکھرام نے انہیں سماج میں داخل نہیں کیا۔چنانچہ پنڈت لیکھرام نے جو سماج قادیان میں قائم کیا اس میں لالہ ملا وامل اور لالہ شرمپت رائے کے نام درج نہ کئے اس لئے کہ وہ کہتا تھا کہ تم اشتہار دو اور یہ انکار کرتے تھے آخر اس نے دھمکی دی کہ سماج میں تمہارا نام نہیں رہے گا۔انہوں نے اس کی پرواہ نہیں کی۔اس کے بعد جب شجھ چنتک