حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 87
حیات احمد ۸۷ الہامات کے لئے روز نامچہ نولیس کا تقرر جلد دوم حصہ اول جن ایام میں آپ براہین احمدیہ کی تصنیف میں مصروف تھے اور اللہ تعالیٰ کے مکالمات و مخاطبات سے بھی آپ مشترف ہو رہے تھے چونکہ ان میں خدا تعالیٰ بعض غیب کی خبریں آپ پر ظاہر فرما تا تھا آپ کا معمول یہ تھا کہ ایسی خبریں آپ علی العموم ان لوگوں کو جو آپ کے پاس آتے جاتے تھے سنا دیا کرتے تھے ان میں سے لالہ ملاوامل ،شرمپت رائے اور بھائی کشن سنگھ وغیرہ خصوصیت کے ساتھ ہندوؤں میں سے اور میاں جان محمد امام مسجد اور بعض دوسرے مسلمان جو آمد و رفت رکھتے تھے مشہور ہیں مگر بعض اوقات آپ کا یہ معمول تھا کہ آپ لوگوں کو بلا لیا کرتے تھے اور ان پیشگوئیوں سے آپ آگاہ کرتے۔نہ صرف یہ کہ قادیان میں رہنے والوں کو اطلاع دیتے بلکہ بعض اوقات آپ خطوط کے ذریعہ اپنے خاص دوستوں کو باہر بھی اطلاع دیتے تھے۔ان میں سے ان ایام میں صرف لالہ بھیم سین وکیل سیالکوٹ مخصوص تھے اور بعض عہدہ داران سرکاری جو آپ سے یا آپ کے خاندان سے تعلق محبت رکھتے تھے اور اگر موقعہ ملتا تو ان کو بھی بتا دیتے ان عہدہ داروں میں سے حافظ ہدایت علی صاحب مرحوم جو ضلع میں ڈپٹی تھے مخصوص تھے چنانچہ آپ کے مبشرات کی ان کو قبل از وقت اطلاع ملی تھی لیکن جب یہ سلسلہ ترقی کرنے لگا تو آپ نے اس مقصد کے لئے ایک ہندو برہمن کو ملازم رکھ لیا اس کا کام یہ تھا کہ وہ آپ کے الہامات کا ایک روز نامچہ لکھا کرے اس کا نام پنڈت شام لال تھا چنانچہ ایک خاص پیشگوئی کا ذکر کرتے ہوئے آپ لکھتے ہیں کہ : ان دنوں میں ایک پنڈت کا بیٹا شام لال نامی جو ناگری اور فارسی دونوں میں لکھ سکتا تھا بطور روزنامہ نویس کے نوکر رکھا ہوا تھا اور بعض امور غیبیہ جو ظاہر ہوتے تھے اس کے ہاتھ سے وہ ناگری اور فارسی خط میں قبل از وقوع لکھائے جاتے تھے اور پھر شام لال مذکور کے اس پر دستخط کرائے جاتے تھے۔“ براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحه ۴۷۶ حاشیه در حاشیہ نمبر۳۔روحانی خزائن جلد اصفحہ ۵۶۷)