حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 140
حیات احمد الده جلد دوم حصہ دوم سفر لودہانہ لود ہا نہ میں جو مختصر سی جماعت آپ کے ساتھ اخلاص ومحبت رکھنے والوں کی پیدا ہو چکی تھی اس کی طرف سے بار بار یہ خواہش اور درخواست پیش ہوتی تھی کہ آپ چند روز کے لئے لودہانہ تشریف لاویں لیکن آپ نے ہر موقع پر اس سفر کی درخواست کو دوسرے وقت پر ملتوی کیا۔میں یہاں اتنا اشارہ کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اگر کوئی دنیا دار ہوتا اور اس کی غایت و مقصود صرف شہرت ناموری یا سکوں کا حاصل کرنا ہوتا تو وہ ایسے موقع کو غنیمت سمجھتا اور فوراً روانہ ہوتا مگر آپ نے ہر موقعہ پر جواب ہی دیا جب تک کہ وہ ساعت موعودہ نہ آ گئی جو اللہ تعالیٰ کے علم میں تھی یہ درخواستیں ایک مرتبہ نہیں متعدد مرتبہ کی گئیں۔اپریل ۱۸۸۳ء کے قریب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میر عباس علی صاحب کو ایک خط لکھا جس میں ان کی درخواست سفر لودہانہ کا ضمناً جواب ہے آپ لکھتے ہیں کہ "بالفعل لودہانہ میں شیہ:۔لود ہانہ کی اہمیت تاریخ سلسلہ میں لودہا نہ تاریخ سلسلہ میں ایک خاص اہمیت اور امتیاز رکھتا ہے۔تاریخی سلسلہ کے اعتبار سے شاید میں اس کا ذکر ۱۸۸۹ء کے واقعات میں کرتا مگر لودہانہ کے سفر کے سلسلہ میں ہی اس اہمیت کا ذکر کر جانا چاہتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نازل شدہ وحی میں جن مقامات کا ذکر آیا ہے اور خصوصیت کے ساتھ سفروں کے سلسلہ میں جن کو ریاض ہند امرتسر مورخہ یکم مارچ ۱۸۸۶ء ضمیمہ کے طور پر جو اشتہار آپ نے شائع کیا اس کے صفحہ ۳ پر پہلی پیشگوئی کے ضمن میں خدا تعالیٰ کے کلام کو پیش کرتے ہیں کہ اس نے مجھ کو اپنے الہام سے مخاطب کر کے فرمایا:۔تیری دعاؤں کو اپنی رحمت سے بپا یہ قبولیت جگہ دی اور تیرے سفر کو ( جو ہوشیار پور اور اود ہانہ کا سفر ہے ) تیرے لئے مبارک کر دیا سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے۔الآخر