حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 80 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 80

حیات احمد ۸۰ جلد دوم حصہ اول مولوی غلام علی صاحب نے کھلم کھلا حضرت اقدس کی مخالفت نہیں کی بلکہ اپنے علم وفکر کے لحاظ سے اصولی طور پر ایک مسئلہ لے کر اس کی تردید کی اور بخیال خویش اس کی توضیح کی اور اس طرح پر ضمناً حضرت اقدس کے دعویٰ الہام کی تغلیط کرنے کی کوشش کی۔امرتسری مخالفت عداوت کا نتیجہ نہ تھی بلکہ ناواقفیت کا مولوی غلام علی صاحب قصوری نے اس سے زائد کوئی مخالفت اور کھلم کھلا اعلان جنگ یا اظہار عداوت نہیں کیا اور اس کے بعد وہ خاموش ہو کر رہ گئے۔اس لئے یہ کہنا حسن ظن کے طور پر صحیح معلوم ہوتا ہے کہ ان کے انکار اور مخالفت کی جڑ شرارت نہ تھی۔میرے اس خیال کے تصدیق مولوی ابوسعید محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ لاہور بھی کرتے ہیں۔مولوی صاحب کا رسالہ ان ایام میں ایک بہت بڑی اتھارٹی اور طاقت سمجھا جاتا تھا۔اور ان کے علم وفضل کی ایک دھاک تھی وہ اپنے رسالہ اشاعۃ السنه جلد ۶ نمبر ۶ میں امرتسری مخالفین کے متعلق لکھتے ہیں ( متن میں )۔ان کے اس انکار و کفران کا مورد و موجب مؤلف کتاب کے وہی الہامات ہیں جو اس کتاب کے اخص برکات سے ہیں۔ان الہامات کو بعض مسلمان امرتسری تو صرف غیر صحیح و غیر ممکن و نا قابل تسلیم بتاتے ہیں اور بعضے (لو دہانہ والے ) ان کو کھلم کھلا کفر قرار دیتے ہیں۔فریق اول (امرتسری مسلمان ) اپنے انکار کی وجہ یہ پیش کرتے ہیں کہ الہام غیبی ( جو ہم رنگ وحی ہے ) بجز انبیاء کسی کو نہیں ہوسکتا اور آج تک کسی کو نہیں ہوا اور اگر طبعی خیالات و خطرات مراد ہیں تو ان کو دل سے خصوصیت ہے۔یہ خطرات تو خود انسان بلکہ حیوان یکھی۔وغیرہ کو بھی ہوتے ہیں۔“ (اشاعة السنه جلد ۶ نمبرے صفحہ ۱۷۰، ۱۷۱) اور اس پر حاشیہ میں لکھتے ہیں۔امرتسر کے مسلمانوں کے اس انکار کا باعث ان کی نا نہیں اور بے ذوقی اور کسی قدر عموماً اہل اللہ واہل باطن سے گوشہ تعصبی ہے ان کو خاص کر