حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 81
حیات احمد ΔΙ جلد دوم حصہ اول مؤلّف براہین سے کچھ عداوت نہیں“۔مولوی غلام علی صاحب کی پوزیشن اس حد تک صاف ہے اور انہوں نے اس کے بعد عملی اسٹیپ نہیں لیا۔حضرت نے براہین میں اُن کے رسالے پر بحث کر کے حاشیہ در حاشیہ نمبر میں اپنے دعوے کے اثبات پر زور دیا۔اس حاشیہ در حاشیہ کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اقدس نے وحی اور الہام میں کوئی فرق نہیں کیا اور پُر شوکت دلائل سے بتایا ہے کہ یہ مترادف ہیں۔مولوی غلام علی صاحب کے عقیدے کا زہر اُن کے بعض شاگردوں میں بھی پھیل گیا تھا۔چنانچہ ایک شخص حافظ نور احمد صاحب (جن کو میں نے خود دیکھا ہے اور حضرت اقدس کے متعلق وہ نیک خیالات اور عقیدت رکھتے تھے گو وہ با قاعدہ سلسلہ میں داخل نہ ہو سکے حضرت اقدس کی مہمان نوازی اور مگارمِ اخلاق کی بہت تعریف کرتے تھے۔عرفانی) قادیان آیا۔اور حضرت اقدس اس وقت براہین کی تصنیف میں مصروف تھے وہ حضرت صاحب کا مہمان ہوا۔حضرت کے حضور اپنے خیالات دربارہ الہام کا ذکر کیا اور حضرت نے معقول طور پر بہت کچھ سمجھایا مگر اثر نہ ہوا آخر توجه إلى الله تک نوبت پہنچی اور خدا تعالیٰ نے ایک نشان ظاہر کر دیا۔حضرت نے اس اجمال کی تفصیل براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۷۱ تا ۴۷۲ کے حاشیہ در حاشیہ نمبر سات میں کی ہے۔اس کے بعد حافظ نوراحمد صاحب نے اس عقیدہ سے توبہ کر لی تھی اور وہ حضرت اقدس کے ساتھ اظہار عقیدت کرتا رہا۔ابتدائی زمانہ دعوئی مسیح موعود میں ہم لوگ اسی مسجد میں نماز پڑھا کرتے تھے جہاں حافظ نور احمد صاحب نماز پڑھایا کرتے تھے اور حافظ نور احمد کبھی مخالفت نہیں کیا کرتے تھے مگر بعد میں اہل محلہ کو بعض لوگوں نے بھڑکایا اور حافظ بھی مجبور ہو گیا اور ہم لوگوں نے بھی اس مسجد کو چھوڑ دیا۔لود ہانہ کے مخالفین کی وجہ مخالفت لودہانہ کے مخالفین نے جو علم مخالفت آپ کے خلاف بلند کیا اس کی وجوہات اور اسباب مذہبی اور سیاسی دونوں تجویز کئے گئے تھے۔دراصل وجہ مخالفت تو محض عداوت اور بغض تھا لیکن د روحانی خزائن جلد اصفحه ۶۲ ۵ تا ۵۶۵ - حاشیه در حاشیه نمبر ۳