حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 76
حیات احمد ۷۶ جلد دوم حصہ اوّل یہاں تاریخی واقعہ کا تعلق ہے اس لئے میں اتنا کہہ دینا چاہتا ہوں کہ یہ آریہ جس کے خواب کا ذکر ہے لالہ شرمپت رائے صاحب تھے۔رؤسائے وائسرائے ہند میں سے قریباً یہی لوگ تھے جنہوں نے براہین احمدیہ کی اشاعت کے وقت ابتداء حصہ لیا اللہ تعالیٰ ان کی اس خدمت کو قبول کرے اور ان کے ساتھ اپنے فضل و رحمت کا سلوک فرمائے۔آمین۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایسے وقت اعانت میں حصہ لیا کہ آپ نے کوئی دعوی نہ کیا تھا اور دنیا کے لوگ آپ کے مقام اور شان سے ناواقف تھے بلکہ آپ کو کوئی جانتا بھی نہ تھا ایسے وقت میں ان لوگوں کا اعانت کے لئے کھڑا ہونا ایک نشانِ نصرت تھا۔عوام میں سے معاونین عوام میں سے جن لوگوں نے براہین کی اشاعت میں مدد دینے کا کام کیا ان میں سے میر عباس علی لود بانوی کا نام سب سے اول رہ گیا۔میر صاحب کے تذکرہ کے ساتھ دل میں ایک درد پیدا ہوتا ہے کہ یہ شخص آخر میں ان برکات اور فضلوں سے محروم ہو گیا جو حضرت اقدس کے ذریعہ دنیا میں آئیں۔اس کی شامت اعمال نے اسے منکرین کے صف میں کھڑا کر دیا اور اسی پر خاتمہ ہوا۔حضرت مسیح موعود " کو اس کے اپنے مقام سے گر جانے کی خبر خدا تعالیٰ نے دے دی تھی۔اور حضرت نے اس کو اپنے مکتوبات میں اشارتاً اس کی طرف توجہ بھی دلائی تھی۔لیکن وہ کشوف اور رویا آپ کے ایسے زمانہ کے تھے کہ میر عباس علی صاحب اَوَّلُ النَّاصِرِین نظر آتے تھے ان کی ارادت اور عقیدت ترقی کر رہی تھی۔اُس وقت حضرت نے اُن کو وہ رؤیا لکھی جس سے پایا جا تا تھا کہ میر عباس علی صاحب کا پچھلا حال پہلے سے بدتر ہو گیا۔مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی نے بھی اشاعة السنه میں براہین پر ایک مبسوط ریویو لکھ کر اس کی اشاعت کے لئے تحریک کی مگر افسوس ہے کہ دعوی مسیح موعود پر یہ شخص بھی اول الکافرین ہوکر مخالفت کے لئے کھڑا ہوا خدا نے اس کے رجوع کرنے کی خبر دی تھی اس کی زندگی کے آخری ایام نے یہ بتا دیا تھا کہ وہ رجوع کر چکا ہے بہر حال حضرت کی زندگی میں اسے یہ توفیق نہ ملی۔اب اس کا معاملہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے۔میرا اپنا یہ