حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 75 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 75

حیات احمد ۷۵ جلد دوم حصہ اول لدھیانہ میں ایک بہت بڑی پبلک لائبریری قائم کر رکھی تھی اور یہ عجیب بات ہے کہ حضرت اقدس کے ہی ایک خادم منشی عمر الدین صاحب مرحوم و مغفور کو آخری موقع ملا کہ وہ سرا در صاحب کی خدمت میں رہ کر اعتماد حاصل کریں۔سردار صاحب اُن کی دیانت اور محنت اور وفاداری کی تعریف کرتے تھے اور وہ اپنی زندگی کے آخری ایام تک ان کی ملازمت میں ہی رہے۔ریاست جونا گڑھ کے مدارالمہام کی امداد رؤسائے ہند کے سلسلہ امداد میں آخری نام جناب شیخ محمد بہاء الدین صاحب مدار المهام جونا گڑھ کا ہے شیخ صاحب نے براہین احمدیہ کی اعانت کے لئے پچاس روپیہ دیئے۔شیخ صاحب کی امداد اپنی قیمت و کمیت کے لحاظ سے کچھ بھی ہولیکن یہ امداد ایک رنگ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور نشان کے تھی۔اس لئے کہ حضرت اقدس کو قبل از وقت اس کے متعلق رؤیا میں دکھایا گیا تھا چنانچہ آپ فرماتے ہیں:- ”ہم کو یاد ہے کہ محرم ۱۲۹۹ ہجری کی پہلی یا دوسری تاریخ میں ہم کو خواب میں یہ دکھائی دیا کہ کسی صاحب نے مدد کتاب کے لئے پچاس روپیہ روانہ کئے ہیں۔اُسی رات ایک آریہ صاحب نے بھی ہمارے لئے خواب دیکھی کہ کسی نے مدد کتاب کے لئے ہزار روپیہ روانہ کیا ہے اور جب انہوں نے خواب بیان کی تو ہم نے اُسی وقت اُن کو اپنی خواب بھی سنا دی اور یہ بھی کہہ دیا کہ تمہاری خواب میں اُنیس حصے جھوٹ مل گیا ہے اور یہ اسی کی سزا ہے کہ تم ہندو اور دینِ اسلام سے خارج ہو۔شاید اُن کو گراں ہی گزرا ہو گا مگر بات سچی تھی جس کی سچائی پانچویں یا چھٹے محرم میں ظہور میں آ گئی۔یعنی پنجم یا ششم محرم الحرام میں مبلغ پچاس روپے جن کو جونا گڑھ سے شیخ محمد بہاء الدین صاحب مدار المہام ریاست نے کتاب کے لئے بھیجا تھا۔کئی لوگوں اور ایک آریا کے روبرو پہنچ گئے وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِك “ ( براہین احمدیہ حصہ سوم صفحہ ۲۵۵ ۲۵۶ حاشیہ در حاشیہ نمبر ا۔روحانی خزائن جلد اصفحہ ۲۸۴٬۲۸۳)