حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 60 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 60

حیات احمد جلد دوم حصہ اوّل آمد و رفت کی یہ سہولتیں نہ تھیں جو آج ہمیں میسر ہیں بلکہ امرتسر اور بٹالہ کے درمیان ابھی ریل بھی تیار نہ ہوئی تھی۔امرتسر تک یکہ میں جانا پڑتا تھا اور قادیان سے کبھی کوئی ہیکہ مل جاتا مگر علی العموم آپ بٹالہ تک پیدل سفر کرتے تھے۔موسمی شدائد کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر شخص بآسانی قیاس کر سکتا ہے کہ حضرت کو براہین احمدیہ کی طبع کے لئے کس قدر محنت اور جفا کشی سے کام لینا پڑتا تھا۔آج ہم اُس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔خود مضمون لکھتے پھر صاف شدہ مسودہ کو پڑھتے۔پھر کا تب کو دیتے۔اور کاپیوں کی اصلاح فرماتے۔اور پھر خود ان کو لے کر امرتسر جاتے۔اور کا پیاں مطبع میں دے کر بعض اوقات آجاتے اور جب کا پیاں پتھر پر لگ جانے کی اطلاع ملتی تو آپ خود امرتسر تشریف لے جاتے اور کاپیوں کے پروف پڑھتے۔امرتسر میں قیام ان ایام میں اس موقعہ کے لئے آپ کو کئی کئی مرتبہ جانا پڑتا۔اور کئی کئی دن امرتسر قیام کرنے کی ضرورت پیش آتی۔اگر چہ امرتسر کے تمام بڑے بڑے رؤسا سے آپ کے خاندان کے تعلقات تھے اور آپ اگر ان کے ہاں قیام فرماتے تو وہ اپنی سعادت اور عزت یقین کرتے لیکن آپ کی عادت شریف میں یہ نہ تھا۔آپ دنیا کے بڑے آدمیوں سے الگ تھلگ رہتے۔امرتسر جا کر آپ علی العموم حکیم محمد شریف صاحب کلانوری کے ہاں قیام فرمایا کرتے تھے۔اس سفر میں کبھی کبھی لالہ ملاوامل صاحب بھی آپ کے ساتھ ہوتے تھے اور کبھی لالہ شرمپت رائے بھی کبھی لالہ ملاوامل صاحب کو تنہا بھی بھیج دیا کرتے تھے تا کہ وہ کا پیاں لے جاویں یا کسی اور کام کو سرانجام دیں۔امرتسر کے قیام کے ایام میں آپ کا کام سوائے براہین کے پروف وغیرہ دیکھنے کے اور کچھ نہ ہوتا تھا۔وہاں اگر کچھ وقت ملتا تو آپ مذہبی تذکرہ بھی بعض لوگوں سے فرماتے تھے۔ان میں سے مولوی غلام نبی صاحب تاجر کتب اب تک زندہ ہیں۔مولوی غلام نبی صاحب رو نصاریٰ میں رسالے اور اخبارات میں مضامین لکھتے رہتے تھے اور انہیں خصوصیت سے اس کا شوق تھا۔