حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 61
حیات احمد ۶۱ جلد دوم حصہ اوّل حضرت اقدس ہر ایسے شخص سے محبت کرتے تھے جو خدمت اسلام کا جوش رکھتا ہو۔اس لئے مولوی غلام نبی صاحب سے لکھی محبت رکھتے تھے اور عیسائیوں کے اعتراضات کے متعلق گفتگو ہوتی رہتی تھی جب کبھی بھی موقعہ ملتا۔براہین کی اشاعت تجارتی اصولوں پر نہ تھی بعض لوگوں کو اپنی کسی مخفی شامت اعمال یا معاندانہ حسد کی وجہ سے یہ خیال پیدا ہوا کہ براہین کی طبع و اشاعت کا کام محض دنیوی اغراض اور مفاد کو مد نظر رکھ کر کیا گیا تھا۔میں بحیثیت ایک معتقد کے نہیں بلکہ ایک مؤرخ اور سیرت نگار کے براہین احمدیہ کی طبع و اشاعت کے تمام پہلوؤں پر نظر کر رہا ہوں اور واقعات اور شواہد سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نے براہین کی اشاعت سے کبھی کسی قسم کا مادی اور مالی مفاد مد نظر نہیں رکھا۔سچ تو یہ ہے کہ براہین احمدیہ کی طبع کے وقت اننا روپیہ آیا بھی نہیں جو کسی قسم کی فراغت اور مالی آسودگی پیدا کرتا۔خود براہین کے اخراجات بھی بمشکل پورے ہوتے تھے۔ہر ایک حصہ کی طبع کے لئے آپ کو فراہمی روپیہ کے وقت مشکلات پیش آتے تھے اور بعض لوگوں کی طرف سے (جن میں سے بڑی تعداد عمائد و امرائے اسلام کی تھی ) آپ کو نقصان اٹھانا پڑا۔جس کا اظہار آپ نے خود براہین میں کیا ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں۔امرائے عالی ہمت کی سرد مہری بعض صاحبوں نے قطع نظر اعانت سے ہم کو سخت تفکر اور تر ڈو میں ڈال دیا ہے۔ہم نے پہلا حصہ جو چھپ چکا تھا اُس میں سے قریب ایک سو پچاس جلد کے بڑے بڑے امیروں اور دولتمندوں اور رئیسوں کی خدمت میں بھیجی تھیں اور یہ امید کی گئی تھی جو امرائے عالی قدر خریداری کتاب کی منظور فرما کر قیمت کتاب جو ادنی رقم ہے بطور پیشگی بھیج دیں گے اور ان کی اس طور کی اعانت سے دینی کام بآسانی پورا ہو جائے گا اور ہزار ہا بندگانِ خدا کو فائدہ پہنچے گا۔اسی اُمید پر ہم نے قریب ڈیڑھ سو کے خطوط اور عرائض بھی لکھے اور یہ انکسار تمام حقیقت حال سے مطلع کیا مگر باستثناء دوتین