حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 51
۵۱ جلد دوم حصہ اول حیات احمد نہ اختیاری اور وہ ہمارے نزدیک ان مجبوریوں کی حالت میں قابل رحم ہیں نہ قابل الزام۔ماسوائے اس کے مطبع سفیر ہند کے مہتمم صاحب میں ایک عمدہ خوبی یہ ہے کہ وہ نہایت صحت اور صفائی اور محنت اور کوشش سے کام کرتے ہیں اور اپنی خدمت کو عرق ریزی اور جانفشانی سے انجام دیتے ہیں۔یہ پادری صاحب ہیں۔مگر باوجود اختلاف مذاہب کے خدا نے ان کی فطرت میں یہ ڈالا ہوا ہے کہ اپنے کام منصبی میں اخلاص اور دیانت کا کوئی دقیقہ باقی نہیں چھوڑتے۔اُن کو اس بات کا ایک سودا ہے کہ کام کی عمدگی اور خوبی اور صحت میں کوئی کسر نہ رہ جائے۔انہیں وجوہ کی نظر سے باوجود اس بات کے کہ دوسرے مطابع کی نسبت ہم کو اس مطبع میں بہت زیادہ حق الطبع دینا پڑتا ہے۔تب بھی انہیں کا مطبع پسند کیا گیا۔“ (براہین احمدیہ حصہ سوم عذر و اطلاع صفحہ ۲ ۳۔روحانی خزائن جلد اصفحه ۳۱۲،۳۱۱) غرض محض کتاب کے عمدہ اور صحیح طبع ہونے کے خیال سے آپ نے پادری صاحب کے مطبع سفیر ہند کو منتخب کیا۔اور پادری صاحب نے بھی اس کتاب کو عمدہ چھاپنے کا اہتمام کیا۔اور یہ امر اس کتاب کے پہلے ایڈیشن کے دیکھنے سے نمایاں ہے۔انہوں نے اس کتاب کی کتابت کے لئے منشی امام الدین صاحب کو منتخب کیا۔حضرت کو اُس کی شان خط بہت پسند تھی۔اور ایک عرصہ دراز تک وہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کا تب رہے۔براہین احمدیہ کے ہر سہ حصص انہوں نے لکھے۔مگر چوتھی جلد کے کچھ حصہ کی کتابت کی عزت وسعادت حضرت شیخ محمد حسین صاحب مراد آبادی مرحوم کے بھی حصہ میں آئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی فطرت میں وفاداری کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔اس لئے آپ منشی امام الدین صاحب سے برابر کام لیتے رہے۔اور آئینہ کمالات اسلام تک جب موقعہ ملتا اُن سے کچھ نہ کچھ کام لیتے۔مستقل طور پر ان کو بیس روپیہ ماہوار دیتے رہتے تھے۔اس شرط پر کہ جب حضرت طلب کریں وہ فوراً آ جاوے۔بعد میں منشی غلام محمد امرتسری کی تحریر حضرت کو پسند آئی۔مگر اُسے براہین کی سعادت نصیب نہیں ہوئی۔اس کی