حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 50
حیات احمد جلد دوم حصہ اوّل اور ان سے بھی صرف اخبار کے ذریعہ ایک رسمی واقفیت تھی۔آپ اخبار سفیر ہند اور وکیل ہندوستان منگوایا کرتے تھے۔اُن کو دیکھ کر آپ یہ جانتے تھے کہ پادری رجب علی بہترین چھپائی اور کتابت کا دلدادہ ہے۔اس لئے آپ نے براہین احمدیہ کی طباعت کے لئے مطبع سفیر ہند امرتسر میں انتظام کیا۔اور پادری رجب علی نے براہین احمدیہ کی طبع کی اجرت بہت ہی زیادہ چارج کی۔آپ نے اس کے متعلق کوئی تکرار نہیں کیا جو انہوں نے مانگا آپ نے دے دیا۔اصل یہ ہے کہ حضرت کا مذہب یہ تھا۔کہ آپ اشاعت کے متعلق یہ کبھی پسند نہیں فرماتے تھے کہ اس کے کاغذ یا کتابت یا طباعت میں کسی قسم کی کفایت کو مد نظر رکھ کر اس کے حسن میں فرق پیدا کر یں۔بلکہ آپ فرماتے تھے کہ میں تو اسے شرک سمجھتا ہوں۔غرض پادری صاحب نے براہین کی طباعت کی من مانی اجرت لی۔اور اس کتاب کو چھاپنا شروع کیا۔وہ کتاب کی طبع کے اخراجات عموماً پیشگی لیتے جس سے بعض اوقات آپ کو تکلیف ہوتی۔لیکن آپ اس کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔کچھ شک نہیں کہ پادری رجب علی نے کتاب کی طبع کی اُجرت بہت ہی زیادہ چارج کی مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس نے کتاب کو نہایت اعلیٰ درجہ کی طباعت سے تیار کیا۔مہتمم سفیر ہند اور حضرت مسیح موعود چنانچہ باوجود یکہ براہین احمدیہ کی طباعت میں غیر معمولی توقف اور تعویق ہوتی تھی اور لوگ اس پر اعتراض بھی کرتے تھے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی مطبع میں چھپوانا پسند کیا تا وقتیکہ آب از سرگزشت والا معاملہ نہ ہو گیا۔آپ نے لوگوں کے اعتراضات کا جواب دیا۔اور پادری رجب علی صاحب کی دقتوں کا عذر خود کیا۔چنانچہ فرماتے ہیں شائد ہم بعض دوستوں کی نظر میں اس وجہ سے قابل اعتراض ٹھہریں کہ ایسے مطبع میں جس میں ہر دفعہ لمبی لمبی توقف پڑتی ہے کتاب کا چھپوانا تجویز کیا گیا۔سواس اعتراض کا جواب ابھی عرض کیا گیا ہے کہ یہ مہتم مطبع کی طرف سے لاچاری تو قف ہے