حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 583 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 583

حیات احمد ۵۸۳ جلد دوم حصہ سوم کارخانے کے حوالہ کر کے آسمانی فیوض سے اپنے نفس کو متمتع کرے اور نہایت بدقسمت وہ شخص ہے جو اپنے تئیں ان انوار و برکات کے حصول سے لا پروا رکھ کر بے بنیا دنکتہ چینیاں اور جاہلانہ رائے ظاہر کرنا اپنا شیوہ کر لیوے میں ایسے لوگوں کو محض اللہ متنبہ کرتا ہوں کہ وہ ایسے خیالات کو دل میں جگہ دینے سے حق اور حق بینی سے بہت دور جا پڑے ہیں اگر انکا یہ قول سچ ہو کہ الہامات اور مکاشفات کوئی ایسی عمدہ چیز نہیں ہے جو خاص اور عوام یا کافر اور مومن میں کوئی امتیاز بین پیدا کر سکیں تو سالکوں کے لئے یہ نہایت دل توڑنے والا واقعہ ہو گا۔میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ یہی ایک روحانی اور اعلیٰ درجہ کی اسلام میں خاصیت ہے سچائی سے اُس پر قدم مارنے والے مکالمات خاصہ الہیہ سے مشرف ہو جاتے ہیں۔اور قبولیت کے انوار جن میں اُن کا غیر اُن کے ساتھ شریک نہیں ہو سکتا اُن کے وجود میں پیدا ہو جاتے ہیں۔یہ ایک واقعی صداقت ہے جو بے شمار بقیہ حاشیہ۔اب ایک منصف انصافا سوچ کر دیکھے کہ ہماری ان دونوں پیشگوئیوں میں حقیقی طور پر کونسی غلطی۔ہے؟ ہاں ہم نے پر متوفی کے کمالات استعداد یہ الہامات کے ذریعہ ظاہر کئے تھے کہ وہ فطرتاً ایسا ہے اور ایسا ہے اور اب بھی ہم یہی کہتے ہیں اور فطرتی استعدادوں کا مختلف طور پر بچوں میں پایا جانا عام اس سے کہ وہ صغرسنی میں مر جاویں یا زندہ رہیں ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر تمام مذاہب کا اتفاق ہے۔اور کوئی حکماء اور علماء میں سے اس کا منکر نہیں ہوسکتا۔پس دانا کے لئے کونسی ٹھوکر کھانے کی وجہ ہے؟ ہاں نادان اور احمق لوگ ہمیشہ سے ٹھو کر کھاتے چلے آئے ہیں۔بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئی پر ٹھو کر کھائی کہ یہ شخص تو کہتا تھا کہ فرعون پر عذاب نازل ہوگا۔سو اس پر کچھ عذاب نازل نہ ہوا۔وہ عذاب تو ہم پر ہی پڑا کہ اس سے پہلے صرف آدھا دن ہم سے مشقت لی جاتی تھی اور اب سا را دن محنت کرنے کا حکم ہو گیا۔خوب نجات ہوئی حالانکہ یہ دوہری محنت اور مشقت ابتلا کے طور پر یہودیوں پر ابتدا میں نازل ہوئی تھی اور انجام کار فرعون کی ہلاکت مقدر تھی مگر ان بیوقوفوں اور شتاب کاروں نے ہاتھ پر سرسوں جمتی نہ دیکھ کر اُسی وقت حضرت موسی کو جھٹلا نا شروع کر دیا اور بدظنی میں پڑ گئے اور کہا کہ اے موسیٰ و ہارون جو کچھ تم نے ہم سے کیا خدا تم سے کرے۔پھر یہودا اسکر یوتی کی نادانی اور شتاب کاری دیکھنی چاہئے کہ اس نے حضرت مسیح علیہ السلام کی پیشگوئیوں کے سمجھنے میں نہایت سخت ٹھوکر