حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 582
حیات احمد ۵۸۲ جلد دوم حصہ سوم ہے۔انہیں سوچنا چاہئے تھا کہ مخالفین نے اپنی تکذیب کی تائید میں کونسا ثبوت دیا ہے؟ پھر اگر کوئی ثبوت نہیں اور نری بک بک ہے تو کیا فضول اور بے بنیاد افتر اؤں کا اثر اپنے دلوں پر ڈال لینا عقلمندی یا ایمانی وثاقت میں داخل ہے اور اگر فرض محال کے طور پر کوئی اجتہادی غلطی بھی کسی پیشگوئی کے متعلق اس عاجز سے ظہور میں آتی یعنی قطع اور یقین کے طور پر اُس کو کسی اشتہار کے ذریعہ سے شائع کیا جاتا۔تب بھی کسی دانا کی نظر میں وہ محل آویزش نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ اجتہادی غلطی ایک ایسا امر ہے جس سے انبیاء بھی باہر نہیں۔ماسوائے اس کے یہ عاجز اب تک قریب سات ہزار مکاشفات صادقہ اور الہامات صحیحہ سے خدا تعالیٰ کی طرف سے مشرف ہوا ہے اور آئندہ عجائبات روحانیہ کا ایسا بے انتہا سلسلہ جاری ہے کہ جو بارش کی طرح شب و روز نازل ہوتے رہتے ہیں۔پس اس صورت میں خوش قسمت انسان وہ ہے کہ جو اپنے تئیں بصدق وصفا اس ربانی بقیہ حاشیہ۔دلالت کرتے تھے۔چنانچہ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار کی یہ عبارت کہ ایک خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے یہ مہمان کا لفظ در حقیقت اسی لڑکے کا نام رکھا گیا تھا۔اور یہ اس کی کم عمری اور جلد فوت ہونے پر دلالت کرتا ہے کیونکہ مہمان وہی ہوتا ہے جو چند روز رہ کر چلا جاوے۔اور دیکھتے دیکھتے رخصت ہو جاوے اور جو قائم مقام ہو اور دوسروں کو رخصت کرے اس کا نام مہمان نہیں ہوسکتا۔اور اشتہار مذکور کی یہ عبارت کہ وہ رجس سے ( یعنی گناہ سے ) بکنی پاک ہے یہ بھی اُس کی صغرسنی کی وفات پر دلالت کرتی ہے۔اور یہ دھوکا کھانا نہیں چاہئے کہ جس پیشگوئی کا ذکر ہوا ہے وہ مصلح موعود کے حق میں ہے۔کیونکہ بذریعہ الہام صاف طور پر کھل گیا ہے کہ یہ سب عبارتیں پسر متوفی کے حق میں ہیں اور مصلح موعود کے حق میں جو پیشگوئی ہے وہ اس عبارت سے شروع ہوتی ہے کہ اُس کے ساتھ فضل ہے کہ جو اُس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔پس مصلح موعود کا نام الہامی عبارت میں فضل رکھا گیا اور نیز دوسرا نام اُس کا محمود اور تیسرا نام اُس کا بشیر ثانی بھی ہے اور ایک الہام میں اُس کا نام فضل عمر ظاہر کیا گیا ہے اور ضرور تھا کہ اس کا آنا معرض التوا میں رہتا جب تک یہ بشیر جو فوت ہو گیا ہے پیدا ہو کر پھر واپس اٹھایا جاتا کیونکہ یہ سب امور حکمتِ الہیہ نے اس کے قدموں کے نیچے رکھے تھے۔اور بشیر اول جو فوت ہو گیا ہے بشیر ثانی کے لئے بطور ا رہاص تھا۔اس لئے دونوں کا ایک ہی پیشگوئی میں ذکر کیا گیا۔