حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 584 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 584

حیات احمد ۵۸۴ جلد دوم حصہ سوم راستبازوں پر اپنے ذاتی تجارب سے کھل گئی ہے۔ان مدارج عالیہ پر وہ لوگ پہنچتے ہیں کہ جو سچی اور حقیقی پیروی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کرتے ہیں اور نفسانی وجود سے نکل کر ربانی وجود کا پیرا ہن لیتے ہیں یعنی نفسانی جذبات پر موت وارد کر کے ربانی طاعات کی نئی زندگی اپنے اندر حاصل کرتے ہیں۔ناقص الحالت مسلمانوں کو ان سے کچھ نسبت نہیں ہوتی۔پھر کافر اور فاسق کو ان سے کیا نسبت ہو۔اُن کی یہ کاملیت اُن کی صحبت میں رہنے سے طالب حق پر کھلتی ہے۔اسی غرض سے میں نے اتمام حجت کے لئے مختلف فرقوں کے سرگروہوں کی طرف اشتہارات بھیجے تھے اور خط لکھے تھے کہ وہ میرے اس دعوی کی آزمائش کریں۔اگر ان کو سچائی کی طلب ہوتی تو وہ صدق قدم سے حاضر ہوتے سو اُن میں سے کوئی ایک بھی بصدق قدم حاضر نہ ہوا بلکہ جب کوئی پیشگوئی ظہور میں آتی رہی اُس پر خاک ڈالنے کے لئے کوشش کرتے رہے۔اب اگر ہمارے علما کو اس حقیقت کے قبول کرنے اور ماننے میں کچھ تامل ہے تو غیروں کے بلانے کی کیا ضرورت۔پہلے یہی ہمارے احباب جن میں سے بعض فاضل اور عالم بھی ہیں آزمائش کر لیں اور صدق اور صبر سے کچھ مدت میری صحبت میں رہ کر حقیقت حال سے واقف ہو جائیں۔پھر اگر یہ دعوی اس عاجز کا راستی سے معرا نکلے تو انہیں کے ہاتھ پر میں تو بہ کرونگا ورنہ امید رکھتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ ان کے دلوں پر تو بہ اور رجوع کا دروازہ کھول دے گا اور اگر وہ میری اس تحریر کے شائع ہونے کے بعد بقیہ حاشیہ۔کھائی اور خیال کیا کہ یہ شخص بادشاہ ہو جانے کا دعوی کرتا تھا اور ہمیں بڑے بڑے مراتب تک پہنچاتا تھا مگر یہ ساری باتیں جھوٹ نکلیں اور کوئی پیشگوئی اُس کی سچی نہ ہوئی بلکہ فقر و فاقہ میں ہم لوگ مر رہے ہیں بہتر ہے کہ اس کے دشمنوں سے مل کر پیٹ بھریں۔سو اس کی جہالت اُس کی ہلاکت کا موجب ہوئی۔حضرت مسیح علیہ السلام کی پیشگوئیاں اپنے وقتوں میں پوری ہوگئیں۔سونبیوں کا ان نادان مکذبین کی تکذیب سے کیا نقصان ہوا۔جس کا اب بھی اندیشہ کیا جائے۔اور اس اندیشہ سے خدائے تعالیٰ کی پاک کا رروائی کو بند کیا جائے۔یقیناً سمجھنا چاہئے کہ جو لوگ مسلمان کہلا کر اور کلمہ گو ہو کر جلدی سے اپنے دل میں وساوس کا ذخیرہ اکٹھا کر لیتے ہیں۔وہ انجام کار اُسی طرح رسوا اور ذلیل ہونے والے ہیں جس طرح نالائق اور کج فہم یہودی اور یہودا اسکر یوتی رسوا اور ذلیل ہوئے۔فَتَدَبَّرُوْا يَا أُولِي الْأَلْبَابِ منه