حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 581
حیات احمد ۵۸۱ جلد دوم حصہ سوم یہ خوفناک اور گری ہوئی حالت جو میں نے بعض علماء کی بیان کی ہے اس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ وہ ان روحانی روشنیوں کو تجربہ کی رُو سے غیر ممکن یا شگی وطنی خیال کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے ہنوز بالا ستیفا تجربہ کرنے کی طرف توجہ نہیں کی۔اور کامل اور محیط طور پر نظر ڈال کر رائے ظاہر کرنے کا ابھی تک انہوں نے اپنے لئے کوئی موقعہ پیدا نہیں کیا اور نہ پیدا کرنے کی کچھ پرواہ ہے۔صرف ان مفسدانہ نکتہ چینیوں کو دیکھ کر کہ جو مخالفین تعصب آئین نے اس عاجز کی دو پیشگوئیوں پر کی ہیں۔بلا تحقیق و تفتیش شک میں پڑ گئے اور ولایت اور قربت الہیہ کی روشنیوں کے بارے میں ایک ایسا اعتقاد دل میں جما لیا کہ جو خشک فلسفہ اور کورانہ نیچریت کے قریب قریب کا حاشیہ۔وہ نکتہ چینیاں یہ ہیں کہ ۱۸ اپریل ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں اس عاجز نے ایک پیشگوئی شائع کی تھی کہ ایک لڑکا اس عاجز کے گھر میں پیدا ہونے والا ہے۔اور اشتہار مذکور میں یہ تصریح لکھ دیا تھا کہ شاید اسی دفعہ وہ لڑکا پیدا ہو یا اس کے بعد اس کے قریب حمل میں پیدا ہو سو خدا تعالیٰ نے مخالفین کا خبث باطنی اور نا انصافی ظاہر کرنے کے لئے اُس دفعہ یعنی پہلے حمل میں لڑکی پیدا کی۔اور اُس کے بعد جو حمل ہوا تو اُس سے لڑکا پیدا ہوا اور پیشگوئی اپنے مفہوم کے مطابق سچی نکلی۔اور ٹھیک ٹھیک وقوع میں آگئی مگر مخالفین نے جیسا کہ ان کا قدیمی شیوہ ہے محض شرارت کی راہ سے یہ نکتہ چینی کی کہ پہلے دفعہ ہی کیوں لڑکا پیدا نہیں ہوا۔ان کو جواب دیا گیا کہ اشتہار میں پہلی دفعہ کی کوئی شرط نہیں بلکہ دوسرے حمل تک پیدا ہونے کی شرط تھی جو وقوع میں آگئی اور پیشگوئی نہایت صفائی سے پوری ہوگئی۔سوایسی پیشگوئی پر نکتہ چینی کرنا بے ایمانی کی قسموں میں سے ایک قسم ہے کوئی منصف اس کو واقعی طور پر نکتہ چینی نہیں کہہ سکتا۔دوسری نکتہ چینی مخالفوں کی یہ ہے کہ لڑکا جس کے بارہ میں پیشگوئی ۱/۸اپریل ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں کی تھی وہ پیدا ہو کر صغرسنی میں فوت ہو گیا۔اس کا مفصل جواب اسی تقریر میں مذکور ہے اور خلاصہ جواب یہ ہے کہ آج تک ہم نے کسی اشتہار میں نہیں لکھا کہ یہ لڑکا عمر پانے والا ہو گا اور نہ یہ کہا کہ یہی مصلح موعود ہے بلکہ ہمارے اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں بعض ہمارے لڑکوں کی نسبت یہ پیشگوئی موجود تھی کہ وہ کم عمری میں فوت ہوں گے، پس سوچنا چاہئے کہ اس لڑکے کی وفات سے ایک پیشگوئی پوری ہوئی یا جھوٹی نکلی؟ بلکہ جس قدر ہم نے لوگوں میں الہامات شائع کئے۔اکثر ان کے اس لڑکے کی وفات پر