حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 580
حیات احمد ۵۸۰ جلد دوم حصہ سوم آیات سماویہ کے سلسلہ کو جو بذریعہ قبولیت ادعیہ و الہامات و مکاشفات تحمیل پذیر ہوتا ہے لوگوں پر ظاہر کیا جائے۔بعض کی ان میں سے اس بارہ میں یہ بحث ہے کہ یہ باتیں ظنی وشکی ہیں اور اُن کے ضرر کی امید اُن کے فائدہ سے زیادہ تر ہے۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حقیقت میں یہ باتیں تمام بنی آدم میں مشترک و متساوی ہیں۔شائد کسی قدر ادنی کم و بیشی ہو بلکہ بعض حضرات کا خیال ہے کہ قریباً یکساں ہی ہیں۔ان کا یہ بھی بیان ہے کہ ان امور میں مذہب اور اتفقا اور تعلق باللہ کو کچھ دخل نہیں بلکہ یہ فطرتی خواص ہیں جو انسان کی فطرت کو لگے ہوئے ہیں۔اور ایک بشر سے مومن ہو یا کافر۔صالح ہو یا فاسق کچھ تھوڑی کمی بیشی کے ساتھ صادر ہوتے رہتے ہیں۔یہ تو ان کی قیل و قال ہے جس سے ان کی موٹی سمجھ اور سطحی خیالات اور مبلغ علم کا اندازہ ہوسکتا ہے مگر فر است صحیحہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ غفلت اور حُبّ دنیا کا کیڑا اُن کی ایمانی فراست کو بالکل کھا گیا ہے اُن میں سے بعض ایسے ہیں کہ جیسے مجزوم کا جذام انتہا کے درجہ تک پہنچ کر سقوط اعضاء تک نوبت پہنچاتا ہے اور ہاتھوں پیروں کا گلنا سڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ایسا ہی ان کے روحانی اعضاء جو روحانی قوتوں سے مراد ہیں۔بباعث غلو محبت دنیا کے گلنے سڑنے سے شروع ہو گئے ہیں۔اور اُن کا شیوہ فقط بنسی اور ٹھٹھا اور بدظنی اور بدگمانی ہے، دینی معارف اور حقائق پر غور کرنے سے بکلی آزادی ہے۔بلکہ یہ لوگ حقیقت اور معرفت سے کچھ سروکار نہیں رکھتے اور کبھی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتے کہ ہم دنیا میں کیوں آئے اور ہمارا اصلی کمال کیا ہے بلکہ جیفہ ء دنیا میں دن رات غرق ہو رہے ہیں۔ان میں یہ حس ہی باقی نہیں رہی کہ اپنی حالت کو ٹولیں کہ وہ کیسی سچائی کے طریق سے گری ہوئی ہے اور بڑی بد قسمتی ان کی یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی اس نہایت خطرناک بیماری کو پوری پوری صحت خیال کرتے ہیں اور جو حقیقی صحت و تندرستی ہے اس کو یہ نظر تو ہین و استخفاف دیکھتے ہیں۔اور کمالات ولایت اور قرب الہی کی عظمت بالکل ان کے دلوں پر سے اٹھ گئی ہے اور نومیدی اور حرمان کی سی صورت پیدا ہوگئی ہے بلکہ اگر یہی حالت رہی تو ان کا نبوت پر ایمان قائم رہنا بھی کچھ معرض خطر میں ہی نظر آتا ہے۔