حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 570
حیات احمد ۵۷۰ جلد دوم حصہ سوم ہے۔اور اس کا نام باران رحمت اور مبشر بشیر اور ید اللہ بجلال و جمال وغیرہ اسماء بھی ہیں۔سو جو کچھ خدا تعالیٰ نے اپنے الہامات کے ذریعہ سے اس کی صفات ظاہر کیں یہ سب اُس کی صفائی استعداد کے متعلق ہیں جن کے لئے ظہور فی الخارج کوئی ضروری امر نہیں۔اس عاجز کا مدلل اور معقول طور پر یہ دعویٰ ہے کہ جو بنی آدم کے بچے طرح طرح کی قوتیں لے کر اس مسافر خانہ میں آتے ہیں خواہ وہ بڑی عمر تک پہنچ جائیں اور خواہ وہ خورد سالی میں فوت ہو جائیں اپنی فطرتی استعدادات میں ضرور باہم متفاوت ہوتے ہیں۔اور صاف طور پر امتیاز متین ان کی قوتوں اور خصلتوں اور شکلوں اور ذہنوں میں دکھائی دیتا ہے جیسا کہ کسی مدرسہ میں اکثر لوگوں نے بعض بچے ایسے دیکھے ہوں گے جو نہایت ذہین اور فہیم اور تیز طبع اور زود فہم ہیں اور علم کو ایسی جلدی سے حاصل کرتے ہیں کہ گویا جلدی سے ایک صف لپیٹتے جاتے ہیں لیکن ان کی عمر وفا نہیں کرتی۔اور چھوٹی عمر میں ہی مرجاتے ہیں۔اور بعض ایسے ہیں کہ نہایت نبی اور بلید اور انسانیت کا بہت کم حصہ اپنے اندر رکھتے ہیں اور منہ سے رال ٹپکتی ہے اور وحشی سے ہوتے ہیں۔اور بہت سے بوڑھے اور پیر بقیہ حاشیہ۔پیئیں گے کہ جو حضرت مسیح پھر اپنی جلالت اور عظمت کے ساتھ دنیا میں تشریف لے آئیں گے۔اور معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا خیال اور رائے اُسی پیرایہ کی طرف زیادہ جھکا ہوا تھا کہ جو انہوں نے حواریوں کے ذہن نشین کیا جو اصل میں صحیح نہیں تھا۔یعنی کسی قدر اس میں اجتہادی غلطی تھی اور عجیب تریہ کہ بائبل میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک مرتبہ بنی اسرائیل کے چار سو نبی نے ایک بادشاہ کی فتح کی نسبت خبر دی اور وہ غلط نکلی یعنی بجائے فتح کے شکست ہوئی۔دیکھو سلاطین اول باب ۲۲ آیت ۱۹ مگر اس عاجز کی پیشگوئی میں کوئی الہامی غلطی نہیں۔الہام نے پیش از وقوع دولڑکوں کا پیدا ہونا ظاہر کیا اور بیان کیا کہ بعض لڑکے کم عمری میں فوت بھی ہوں گے۔دیکھو اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء و اشتہار • ار جولائی ۱۸۸۸ء سو مطابق پہلی پیشگوئی کے ایک لڑکا پیدا ہو گیا۔اور فوت بھی ہو گیا۔اور دوسرا لڑکا جس کی نسبت الہام نے بیان کیا کہ دوسرا بشیر دیا جائے گا جس کا دوسرا نام محمود ہے۔وہ اگر چہ اب تک جو یکم دسمبر ۱۸۸۸ء ہے پیدا نہیں ہوا مگر خدا تعالیٰ کے وعدے کے موافق اپنی میعاد کے اندر ضرور پیدا ہو گا۔زمین آسمان ٹل سکتے ہیں پر اس کے وعدوں کا ٹلنا ممکن نہیں۔نادان اس کے الہامات پر ہنستا ہے اور احمق اس کی پاک بشارتوں پر ٹھٹھا کرتا ہے کیونکہ آخری دن اس کی نظر سے پوشیدہ ہے اور انجام کار اس کی آنکھوں سے چھپا ہوا ہے۔منہ