حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 569
حیات احمد ۵۶۹ جلد دوم حصہ سوم کوئی کافی و قانونی ثبوت بھی ہے یا ناحق بار بار اپنے نفس امارہ کے جذبات لوگوں پر ظاہر کر رہے ہیں اور اس جگہ بعض نادان مسلمانوں کی حالت پر بھی تعجب ہے کہ وہ کس خیال پر وساوس کے دریا میں ڈوبے جاتے ہیں۔کیا کوئی اشتہار ہمارا ان کے پاس ہے کہ جو ان کو یقین دلاتا ہے ہم اس لڑکے کی نسبت الہامی طور پر قطع کر چکے تھے کہ یہی عمر پانے والا اور مصلح موعود ہے اگر کوئی ایسا اشتہار ہے تو کیوں پیش نہیں کیا جاتا۔ہم ان کو باور دلاتے ہیں کہ ایسا اشتہار ہم نے کوئی شائع نہیں کیا۔ہاں خدا تعالیٰ نے بعض الہامات میں یہ ہم پر ظاہر کیا تھا کہ یہ لڑکا جو فوت ہو گیا ہے۔ذاتی استعدادوں میں اعلیٰ درجہ کا ہے۔اور دنیوی جذبات بکلی اس کی فطرت سے مسلوب اور دین کی چمک اس میں بھری ہوئی ہے۔اور روشن فطرت اور عالی گوہر اور صدیقی روح اپنے اندر رکھتا بقیہ حاشیہ۔ایسی مشکلات پڑ گئی تھیں جن کی پہلے سے بنی اسرائیل کو صفائی سے خبر نہیں دی گئی تھی۔اس کی یہی وجہ تھی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی اُن درمیانی مشقتوں اور اُن کے طول کھینچنے کی ابتدا میں مصفا اور صاف طور پر خبر نہیں ملی تھی لہذا ان کے خیال کا میلان اجتہادی طور پر کسی قدر اس طرف ہو گیا تھا کہ فرعون بے عون کا آیات بینات سے جلد تر قصہ پاک کیا جائے گا۔سوخدا تعالیٰ نے جیسا کہ قدیم سے تمام انبیاء سے اس کی سنت جاری ہے پہلے ایام میں حضرت موسیٰ کو ابتلا میں ڈالنے کی غرض سے اور رُعب استغنا اُن پر وارد کرنے کے ارادہ سے بعض درمیانی مگارہ اُن سے مخفی رکھے کیونکہ اگر تمام آنے والی باتیں اور وارد ہونے والی صعوبتیں اور شدتیں پہلے ہی اُن کو کھول کر بتلائی جاتیں تو اُن کا دل بگلی قوی اور طمانیت یاب ہو جاتا۔پس اس صورت میں اُس ابتلا کی ہیبت ان کے دل پر سے اٹھ جاتی جس کا وارد کرنا حضرت کلیم اللہ پر اور ان کے پیروؤں پر بمراد ترقی درجات و ثواب آخرت ارادہ الہی میں قرار پا چکا تھا۔ایسا ہی حضرت مسیح علیہ السلام نے جو جو امیدیں اور بشارتیں اپنے حواریوں کو اس دنیوی زندگی اور کامیابی اور خوشحالی کے متعلق انجیل میں دی ہیں وہ بھی بظاہر نہایت سہل اور آسان طریقوں سے اور جلد تر حاصل ہونے والی معلوم دیتی تھیں۔اور حضرت مسیح علیہ السلام کے مبشرانہ الفاظ سے جو ابتدا میں انہوں نے بیان کئے تھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا اسی زمانہ میں ایک زبر دست بادشاہی ان کی قائم ہونے والی ہے۔اسی حکمرانی کے خیال پر حواریوں نے ہتھیار بھی خرید لئے تھے کہ حکومت کے وقت کام آویں گے۔ایسا ہی حضرت مسیح کا دوبارہ اترنا بھی جناب ممدوح نے خود اپنی زبان سے ایسے الفاظ سے بیان فرمایا تھا جس سے خود حواری بھی یہی سمجھتے تھے کہ ابھی اس زمانہ کے لوگ فوت نہیں ہوں گے اور نہ حواری پیالہ ءاجل