حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 568 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 568

حیات احمد ۵۶۸ جلد دوم حصہ سوم اُن ناموں کے اپنی یہ رائے لکھتے کہ شاید مصلح موعود اور عمر پانے والا یہی لڑکا ہو گا تب بھی صاحبان بصیرت کی نظر میں یہ اجتہادی بیان ہمارا قابل اعتراض نہ ٹھہرتا۔کیونکہ ان کا منصفانہ خیال اور ان کی عارفانہ نگاہ فی الفور انہیں سمجھا دیتی کہ یہ اجتہاد صرف چند ایسے ناموں کی صورت پر نظر کر کے دیا گیا ہے۔جو فِي حَدٌ ذَاتِہ صاف اور گھلے گھلے نہیں ہیں بلکہ ذوالوجوہ اور تاویل طلب ہیں سو ان کی نظر میں اگر یہ ایک اجتہادی غلطی بھی متصور ہوتی تو وہ بھی ایک ادنی درجہ کی اور نہایت کم وزن اور خفیف سی ان کے خیال میں دکھائی دیتی کیونکہ ہر چند ایک نبی اور کور دل انسان کو خدا تعالیٰ کا وہ قانون قدرت سمجھانا نہایت مشکل ہے جو قدیم سے اس کے متشابہات وحی اور رویا اور کشوف اور الہامات کے متعلق ہے لیکن جو عارف اور بابصیرت آدمی ہیں وہ خود سمجھے ہوئے ہیں کہ پیشگوئیوں وغیرہ کے بارہ میں اگر کوئی اجتہادی غلطی بھی ہو جائے تو وہ محل نکتہ چینی نہیں ہوسکتی کیونکہ اکثر نبیوں اور اولوالعزم رسولوں کو بھی اپنے مجمل مکاشفات اور پیشگوئیوں کی تشخیص وتعیین میں ایسی ہلکی ہلکی غلطیاں پیش آتی رہی ہیں اور اُن کے بیدار دل اور روشن ضمیر پیر و ہرگز ان غلطیوں سے حیرت و سرگردانی میں نہیں پڑے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ غلطیاں نفس الہامات و مکاشفات میں نہیں ہیں بلکہ تاویل کرنے میں غلطی وقوع میں آگئی ہے اب ظاہر ہے کہ جس حالت میں اجتہادی غلطی علماء ظاہر و باطن کی ان کی کسر شان کا موجب نہیں ہوسکتی اور ہم نے کوئی ایسی اجتہادی غلطی بھی نہیں کی جس کو ہم قطعی و یقینی طور پر کسی اشتہار کے ذریعہ سے شائع کرتے تو کیوں بشیر احمد کی وفات پر ہمارے کو تہ اندیش مخالفوں نے اس قدر زہر اگلا ہے۔کیا ان کے پاس ان تحریرات کا حاشیہ۔توریت کی بعض عبارتوں سے ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بعض اپنی پیشگوئیوں کے سمجھنے اور سمجھانے میں اجتہادی طور پر غلطی کھائی تھی۔اور وہ امیدیں جو بہت جلد اور بلا توقف نجات یاب ہونے کے لئے بنی اسرائیل کو دی گئی تھیں وہ اُس طرح پر ظہور پذیر نہیں ہوئی تھیں۔چنانچہ بنی اسرائیل نے خلاف اُن امیدوں کے صورتِ حال دیکھ کر اور دل تنگ ہو کر ایک مرتبہ اپنی کم ظرفی کی وجہ سے جو ان کی طبیعت میں تھی کہ بھی دیا تھا کہ اے موسیٰ و ہارون جیسا تم نے ہم سے کیا خدا تم سے کرے۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ دل تنگی اس کم ظرف قوم میں اسی وجہ سے ہوئی تھی کہ انہوں نے جو جلد مخلصی پاجانے کا اپنے دلوں میں حسب پیرا یہ تقریر موسوی اعتقاد کر لیا تھا اُس طور پر معرض ظہور میں نہیں آیا تھا۔اور درمیان میں