حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 567
حیات احمد جلد دوم حصہ سوم اشتہار میں تو کسی جگہ نہیں لکھا کہ جو ۷ / اگست ۱۸۸۷ء کو لڑکا پیدا ہو گا وہی مصداق ان تعریفوں کا ہے بلکہ اس اشتہار میں اس لڑکے کے پیدا ہونے کی کوئی تاریخ مندرج نہیں کہ کب اور کس وقت ہو گا پس ایسا خیال کرنا کہ ان اشتہارات میں مصداق ان تعریفوں کا اسی پسر متوفی کو ٹھہرایا گیا تھا سراسر ہٹ دھرمی اور بے ایمانی ہے۔یہ سب اشتہارات ہمارے پاس موجود ہیں اور ا ناظرین کے پاس موجود ہوں گے۔مناسب ہے کہ ان کو غور سے پڑھیں اور پھر آپ ہی انصاف کریں۔جب یہ لڑکا جو فوت ہو گیا ہے پیدا ہوا تھا تو اس کی پیدائش کے بعد صد ہا خطوط اطراف مختلفہ سے بدیں استفسار پہنچے تھے کہ کیا یہ وہی مصلح موعود ہے جس کے ذریعہ سے لوگ ہدایت پائیں گے تو سب کی طرف یہی جواب لکھا گیا تھا کہ اس بارے میں صفائی سے ابتک کوئی الہام نہیں ہوا وہاں اجتہادی طور پر گمان کیا جاتا تھا کہ کیا تعجب کہ مصلح موعود یہی لڑکا ہو اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس پر متوفی کی بہت سی ذاتی بزرگیاں الہامات میں بیان کی گئی تھیں جو اُس کی پاکیزگی روح اور بلندی فطرت علو استعداد اور روشن جوہری اور سعادت جبکی کے متعلق تھیں۔اور اس کی کاملیت استعدادی سے علاقہ رکھتی تھیں۔سوچونکہ وہ استعدادی بزرگیاں ایسی نہیں تھیں جن کے لئے بڑی عمر پانا ضروری ہوتا اسی باعث سے یقینی طور پر کسی الہام کی بنا پر اس رائے کو ظاہر نہیں کیا گیا تھا کہ ضرور یہ لڑ کا پختہ عمر تک پہنچے گا اور اسی خیال اور انتظار میں سراج منیر کے چھاپنے میں توقف کی گئی تھی تا جب اچھی طرح الہامی طور پر لڑکے کی حقیقت کھل جاوے تب اس کا مفصل و مبسوط حال لکھا جائے سو تعجب اور نہایت تعجب کہ جس حالت میں ہم اب تک پسر متوفی کی نسبت الہامی طور پر کوئی قطعی رائے ظاہر کرنے سے بلکلی خاموش اور ساکت رہے اور ایک ذرا سا الہام بھی اس بارے میں شائع نہ کیا تو پھر ہمارے مخالفوں کے کانوں میں کس نے پھونک ماردی کہ ایسا اشتہار ہم نے شائع کر دیا ہے۔یہ بھی یادر ہے کہ اگر ہم اس خیال کی بنا پر کہ الہامی طور پر ذاتی بزرگیاں پسر متوفی کی ظاہر ہوئی ہیں اور اس کا نام مبشر اور بشیر اور نور اللہ صیب اور چراغ دین وغیرہ اسماء مشتمل کاملیت ذاتی اور روشنی فطرت کے رکھے گئے ہیں کوئی مفصل و مبسوط اشتہار بھی شائع کرتے اور اس میں بحوالہ